اپ ڈیٹس
  • 300.00 انڈے فی درجن
  • 363.00 زندہ مرغی
  • 526.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 40.30 قیمت فروخت : 40.37
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 279.60 قیمت فروخت : 280.10
  • یورو قیمت خرید: 329.63 قیمت فروخت : 330.22
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 378.91 قیمت فروخت : 379.59
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 194.14 قیمت فروخت : 194.49
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 204.11 قیمت فروخت : 204.48
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.78 قیمت فروخت : 1.79
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.56 قیمت فروخت : 74.70
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 76.13 قیمت فروخت : 76.26
  • کویتی دینار قیمت خرید: 915.22 قیمت فروخت : 916.86
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 513500 دس گرام : 440200
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 470705 دس گرام : 403514
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 8933 دس گرام : 7667
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
جرم وانصاف

اس بات پر اتفاق نہیں کرتا عدلیہ کی آزادی کمپرومائز ہوئی: جسٹس علی باقر نجفی

07 Feb 2026
07 Feb 2026

(لاہورنیوز) وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس علی باقر نجفی اِس بات پر اتفاق نہیں کرتا کہ عدلیہ کی آزادی کمپرومائز ہوئی۔

 

وفاقی دارالحکومت میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس علی باقر نجفی کا کہنا تھا کہ آئینی عدالت کا وجود 14 نومبر 2025 کو ہوا، ایک ہفتے میں اس کورٹ نے کام کا آغاز کردیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ آئینی عدالت نے ابھی تک 2600 کیسز کا فیصلہ کردیا ہے، آئینی عدالت میں جو بھی کیس دائر ہوتا ہے کوشش کرتے ہیں کہ جلد فیصلہ کرے ، آئینی عدالت کا قیام دنیا کی کوئی دکھی چیز نہیں ہے۔

جسٹس علی باقر نجفی کا کہنا تھا کہ آئینی عدالت سے پہلے آئینی بینچ کام کررہا تھا، عدالت کے قیام کی دس وجوہات ہوسکتی ہیں، ایک وجہ جوڈیشل ایکٹوازیم بھی ہوسکتی ہے، سپریم کورٹ نے بہت سے کیسز کے فیصلے اپنے اختیار سے باہر جا کر کیے گئے۔

آئینی عدالت کے جج نے کہا کہ یہ بھی الزام تھا کہ جوڈیشری نے پالیسی سازی میں مداخلت شروع کردی ہے،یہ بھی کہا گیا کہ کیسز قانون کے مطابق حل کرنے کی بجائے دیگر معاملات پر حل کیے گیے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس وقت ایک بہت بڑی ڈبیٹ چل رہی ہے، ایک عنصر دوہرا معیار بھی ہوسکتا ہے، ایک عنصر یہ بھی ہے کہ میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کیلیے پاپولر فیصلہ کرنا ہے، ایک عنصر یہ بھی تھا کہ سٹیٹ اتھارٹی کو چیلنج کرنا ہے۔

جسٹس علی باقر نجفی نے کہا ہے کہ سٹیٹ اتھارٹی کو چیلنج کرنا عدلیہ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے ، اِس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ عدلیہ کی آزادی کمپرومائز ہوئی ہے، میں نے سات ماہ سپریم کورٹ میں فوجداری نوعیت کا کام کیا۔

آئینی عدالت کے جج کا کہنا تھا کہ یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ سپریم کورٹ میں قتل کی اپیلیں سالوں سے زیر التوا تھیں،اس کی وجہ یہ تھی کہ ججز پر آئے روز آئینی معاملات میں الجھے ہوتے ہیں، اب یہ مسئلہ کافی حد تک حل ہوجائے گا۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے