سبزہ زار میں شیر کا حملہ، 11 شیروں کی نجی فارم ہاؤس منتقلی پر سوالات اٹھنے لگے
(لاہور نیوز) سبزہ زار کے علاقے میں شیر کے ایک بچے کے بازو کھانے کے واقعے کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔
پولیس اور وائلڈ لائف حکام کی مشترکہ کارروائی میں نواں کوٹ سے 11 شیروں کو ایک فارم ہاؤس سے برآمد کر کے دوسرے فارم ہاؤس پر منتقل کیا گیا، جہاں پہلے سے 5 شیر موجود تھے۔
حکام کے مطابق قبضے میں لئے گئے شیروں کو کسی محفوظ سرکاری مقام پر منتقل کیا جانا چاہئے تھا، تاہم پولیس اور وائلڈ لائف نے انہیں بے ہوشی کی دوائی دے کر نجی فارم ہاؤس میں رکھا، اس فارم ہاؤس میں 2 پنجروں میں زیادہ تعداد میں شیر رکھے گئے، جس سے سکیورٹی کے مناسب انتظامات ممکن نہیں ہو سکے، اسی وجہ سے سبزہ زار میں بچے کے بازو کھانے کا واقعہ پیش آیا۔
دوسری جانب لاہور کے بھیکے والا گاؤں میں شیرنی نے ایک بچی کو زخمی کیا، جسے پولیس اور وائلڈ لائف ابھی تک قبضے میں نہیں لے سکے، نواں کوٹ سے قبضے میں لئے گئے 11 شیروں میں سے ایک پر بچے پر حملے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
ماہرین اور شہریوں نے پولیس اور وائلڈ لائف حکام کے حفاظتی اقدامات پر سوالات اٹھائے ہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ خطرناک جانوروں کو محفوظ اور سرکاری انتظامات کے تحت رکھا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔
