لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے بسنت کے موقع پر پتنگوں پر تصاویر چھاپنے اور گانوں پر پابندی کے خلاف درخواست آفس اعتراض برقرار رکھتے ہوئے واپس کر دی۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس اویس خالد نے پی ٹی آئی کے شیخ امتیاز کی درخواست پر سماعت کی۔
درخواست گزار کی جانب سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ کسی بھی لیڈر کی تصویر پتنگ پر چھاپنے پر پابندی عائد کی گئی، گانوں پرپابندی عائد کی گئی جن میں نک دا کوکا بھی شامل ہے، نک دا کوکا فحش گانا ہے نہ کوئی سیاسی گیت ہے۔
درخواست گزار کے مطابق اس گانے میں ایک بول میں بانی پی ٹی آئی کا ذکر ہے جس کی وجہ سے پابندی عائد کی گئی، پابندی سے بسنت جیسے تہوار میں بھی سیاسی بدنیتی نظر آتی ہے۔
درخواست میں مزید کہا کہ ڈی سی کا جاری کردہ نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے، عدالت تصاویر اور گانوں پر پابندی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے۔
دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیئے کہ میں نے لیکچر نہیں سننا، آپ پابندی کا نوٹیفکیشن اور کچھ دستاویزات لف کریں، آپ پہلے آفس اعتراض دور کریں پھر سماعت ہوگی، رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کیا ہے کہ درخواست کے ساتھ پابندی کا نوٹیفکیشن اور کچھ صفحات مدھم ہیں، عدالت نے درخواست گزار کو آفس اعتراضات دور کرنے کی ہدایت کر دی۔
