اپ ڈیٹس
  • 337.00 انڈے فی درجن
  • 363.00 زندہ مرغی
  • 526.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 40.31 قیمت فروخت : 40.38
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 279.70 قیمت فروخت : 280.20
  • یورو قیمت خرید: 335.44 قیمت فروخت : 336.04
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 385.90 قیمت فروخت : 386.59
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 195.39 قیمت فروخت : 195.74
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 205.61 قیمت فروخت : 205.97
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.83 قیمت فروخت : 1.83
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.59 قیمت فروخت : 74.72
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 76.17 قیمت فروخت : 76.31
  • کویتی دینار قیمت خرید: 917.05 قیمت فروخت : 918.69
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 533300 دس گرام : 457200
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 488855 دس گرام : 419097
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 11317 دس گرام : 9713
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
پنجاب گورنمنٹ

پنجاب: محفوظ جنگلات اور پروٹیکٹڈ ایریاز میں بھی کان کنی کی اجازت دینے کا فیصلہ

28 Jan 2026
28 Jan 2026

(لاہور نیوز) حکومتِ پنجاب نے صوبے میں معدنی ترقی کو فروغ دینے کے لیے بڑا اقدام کرتے ہوئے محفوظ جنگلات، پروٹیکٹڈ ایریاز اور وائلڈ لائف کے علاقوں میں کان کنی کی اجازت دینے کی تیاری کر لی،پنجاب اسمبلی میں ایک ہی نوعیت کے تین مختلف ترمیمی مسودہ قوانین پیش کر دیے گئے۔

یہ تینوں مسودہ قوانین پیر کے روز پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیے گئے، جنہیں دو ماہ کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ کمیٹیوں سے منظوری کے بعد یہ بل دوبارہ اسمبلی میں پیش کیے جائیں گے، جبکہ حتمی منظوری گورنر پنجاب دیں گے۔

پیش کیے گئے بلوں میں جنگلات (ترمیم) ایکٹ 2026، پنجاب پروٹیکٹڈ ایریاز (ترمیم) ایکٹ 2026 اور پنجاب وائلڈ لائف (ترمیم) ایکٹ 2026 شامل ہیں، جن کے تحت بالترتیب جنگلات ایکٹ 1927، پنجاب پروٹیکٹڈ ایریاز ایکٹ 2020 اور پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ 1974 میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔

بل کے متن کے مطابق محفوظ اور جنگلاتی علاقوں میں معدنی وسائل نکالنے کے لیے قانونی راستہ ہموار کیا جائے گا، جبکہ قومی اہمیت کے منصوبوں کو ان علاقوں میں معدنی سرگرمیوں کے خصوصی اختیارات دیے جائیں گے۔ مجوزہ ترامیم کے تحت جنگلاتی اراضی کو کان کنی کے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا باقاعدہ قانونی فریم ورک تیار کیا جائے گا۔

حکومتی مؤقف کے مطابق پرانے قوانین اور غیر واضح قانونی شقوں کے باعث جنگلاتی علاقوں میں موجود قیمتی معدنی وسائل بروئے کار نہیں لائے جا سکے تھے، جس کی وجہ سے متعدد کان کنی منصوبے تعطل کا شکار رہے۔ قومی معدنی پالیسی سے ہم آہنگی اور ترقیاتی منصوبوں میں حائل قانونی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے ان ترامیم کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔

بل کے متن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غیر قانونی کان کنی کی روک تھام کے لیے ریگولیٹڈ نظام متعارف کرانا ضروری تھا، جبکہ معدنی وسائل کے مؤثر استعمال سے قومی معیشت کو مضبوط بنانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور سرکاری ریونیو میں اضافے میں مدد ملے گی۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے