اپ ڈیٹس
  • 337.00 انڈے فی درجن
  • 348.00 زندہ مرغی
  • 504.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 40.22 قیمت فروخت : 40.30
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 279.75 قیمت فروخت : 280.25
  • یورو قیمت خرید: 332.23 قیمت فروخت : 332.82
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 382.65 قیمت فروخت : 383.33
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 193.39 قیمت فروخت : 193.74
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 203.71 قیمت فروخت : 204.07
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.81 قیمت فروخت : 1.81
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.60 قیمت فروخت : 74.74
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 76.18 قیمت فروخت : 76.32
  • کویتی دینار قیمت خرید: 917.21 قیمت فروخت : 918.85
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 533900 دس گرام : 457700
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 489405 دس گرام : 419555
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 11992 دس گرام : 10292
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
جرم وانصاف

وزیر اعظم بھی غیر قانونی احکامات دیں تو سول سرونٹس ماننے کے پابند نہیں: سپریم کورٹ

27 Jan 2026
27 Jan 2026

(لاہور نیوز) سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم کاکڑ نے او جی ڈی سی ایل بھرتی کیس میں ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم بھی غیر قانونی احکامات دیں تو سول سرونٹس انہیں ماننے کے پابند نہیں۔

سپریم کورٹ میں او جی ڈی سی ایل میں غیر قانونی بھرتیوں کے کیس کی جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی، عدالت نے وکلا کو کیس کی تیاری کی ہدایت کر دی۔

سماعت کے دوران نیب کے وکیل نے بتایا کہ سابق وزیر انور سیف اللہ نے چیئرمین او جی سی ایل کو تقرری کے خطوط بھیجنے کا کہا تھا، وکیل نیب کے مطابق بھرتیوں کا طریقہ کار اشتہار کے ذریعے ہونا چاہئے تھا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ  نے ریمارکس دیے کہ بادشاہ تو نہیں، بس آرڈر کر دیا، ہر سرکاری ادارے میں اوور سٹاف بھرتیاں ہیں، جسٹس صلاح الدین پنور  نے کہا کہ وزرا سے عوام نوکریاں تو مانگتے ہیں۔

نیب کے وکیل نے مزید بتایا کہ او جی ڈی سی ایل میں اوور سٹاف بھرتیاں کی گئیں اور وزیر کے پرنسپل سٹاف آفیسر  نے لکھا تھا کہ نوکریوں کے لیے پارلیمنٹ کا دباؤ ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ وزیر اعظم بھی اگر غیر قانونی احکامات دیں تو سول سرونٹس انہیں ماننے کے پابند نہیں، نیب وکیل نے جواب دیا کہ اگر سول سرونٹس احکامات ماننے سے انکار کریں تو انہیں عذاب کا سامنا ہو سکتا ہے۔

سماعت کے دوران نیب کے وکیل نے بتایا کہ پی آئی اے میں اوور بھرتیوں کی وجہ سے نجکاری کرنا پڑی، اس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم  نے کہا کہ اس وقت بھرتیاں کی گئیں جب احتساب کمیشن کا قانون موجود نہیں تھا۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم  نے کہا کہ متعلقہ وفاقی وزیر سزا تو بھگت چکے ہیں، جسٹس ہاشم کاکڑ  نے ریمارکس دیے کہ سزا کا ایک داغ تو ہے اور پوچھا کہ کیا اتنا کافی نہیں کہ وزیر نے سزا پوری کر لی ہے۔

بعدازاں نیب کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ نظرثانی خارج کر کے اصل فیصلہ برقرار رکھا جائے۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے