لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ یونان کشی حادثے کے مرکزی ملزم ثاقب ججا کی عبوری ضمانت پر سماعت کے دوران مقدمہ کی مدعی نے یونان کشی حادثہ کے مرکزی ملزم کو پہچاننے سے انکار کردیا۔
یونان کشتی کے حادثہ کے مرکزی ملزم ثاقب ججا کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران وکیل نے بتایا کہ مدعیوں نے بیان دیا ہے کہ یہ ہمارا ملزم نہیں ہے لہٰذا عبوری ضمانت کنفرم کی جائے، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے مقدمہ کے مدعیوں پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ ایک ظالم کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ انسانی زندگی کی کوئی قیمت ہے یا نہیں؟ میڈیا شور مچاتا ہے کہ ادارے کام نہیں کرتے، آپ نے خود درخواست دی، اب کہہ رہے ہیں کہ یہ ہمارا ملزم نہیں ہے۔
مقدمہ کے مدعی جمیل نے کہاکہ میں قرآن پر حلف دیتا ہوں، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ قرآن بہت بڑا ہے، ہم اس کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے، ظالم کو بچانے کی کوشش مت کریں، جو کہتے ہیں یہ سادہ لوگ ہیں، یہ سادہ لوگ نہیں ہیں، آپ لوگ عدالت میں سچ نہیں بول رہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ یہ ملک ایسے ٹھیک نہیں ہوگا سب کو آگے آنا پڑے گا، تمام مدعی کل بارہ بجے سپیشل سینٹرل کورٹ میں پیش ہوں۔
دورانِ سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ان کا بچہ اس حادثے میں بچ گیا تھا؟ وفاقی حکومت کے وکیل نے کہاکہ تین مدعیوں کے بچے یونان حادثے میں بچ گئے تھے، چیف جسٹس نے کہاکہ آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کے بچے بچ گئے تھے۔
چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ان سب مدعیوں کے بیانات کی تصدیق کریں ، انگوٹھوں کے نشانات کا فرانزک کرائیں اگر ثابت ہوگیا کہ مدعیوں نے درخواست دی تھی تو پھر جھوٹا بیان دینے پر ان کے خلاف کارروائی کریں۔
بعدازاں عدالت نے ملزم کی عبوری ضمانت میں 12فروری تک توسیع کردی۔
