اپ ڈیٹس
  • 337.00 انڈے فی درجن
  • 348.00 زندہ مرغی
  • 504.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 40.24 قیمت فروخت : 40.31
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 279.70 قیمت فروخت : 280.20
  • یورو قیمت خرید: 332.02 قیمت فروخت : 332.61
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 382.29 قیمت فروخت : 382.98
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 193.47 قیمت فروخت : 193.82
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 204.49 قیمت فروخت : 204.86
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.82 قیمت فروخت : 1.82
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.63 قیمت فروخت : 74.77
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 76.22 قیمت فروخت : 76.35
  • کویتی دینار قیمت خرید: 916.61 قیمت فروخت : 918.25
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 522300 دس گرام : 447800
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 478772 دس گرام : 410480
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 10826 دس گرام : 9291
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
پنجاب گورنمنٹ

شاہی قلعہ لاہور میں کا لوہ مندر اور اتھ دارہ پویلین کا افتتاح، صوبائی وزیر اقلیتی امور کی شرکت

25 Jan 2026
25 Jan 2026

(لاہور نیوز) صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑا کا لوہ مندر اور اتھ دارہ پویلین کا افتتاح کر دیا۔

شاہی قلعہ لاہور میں والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے زیر اہتمام تاریخی ورثے کے منصوبوں کی افتتاحی تقریب ہوئی جس میں سکھ عہد کے حمام اور اتھ دارہ پویلین میں ربن کاٹے گئے، منصوبے میں امریکی سفیروں کے فنڈ برائے ثقافتی تحفظ کا اہم تعاون رہا جبکہ پنجاب حکومت نے اقلیتی اور بین المذاہب ورثے کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔

صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ لاہور ہمیشہ مختلف مذاہب اور تہذیبوں کا مشترکہ تمدنی مرکز رہا ہے،لوہ مندر اور سکھ عہد کا ورثہ پنجاب کی کثیرالثقافتی شناخت کی علامت ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اقلیتی ورثے کا تحفظ ہماری تاریخ کے تسلسل کو محفوظ بناتا ہے، پنجاب حکومت بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے، لوہ مندر، اتھ دارہ پویلین اور سکھ حمام بقائے باہمی کی روشن مثالیں ہیں، امریکی سفیروں کے فنڈ برائے ثقافتی تحفظ کا تعاون قابلِ تحسین ہے۔

رمیش سنگھ اروڑہ کا کہنا تھا کہ آغا خان کلچرل سروس اور WCLA نے ورثے کو حساس انداز میں محفوظ کیا، مذہبی سیاحت کے فروغ سے بین الاقوامی رابطے مضبوط ہوں گے، اقلیتی مقدس مقامات کا تحفظ حکومت پنجاب کی ترجیح ہے۔

صوبائی وزیر اقلیتی امور نے کہا کہ یہ منصوبے ورثے کو زندہ علامتوں میں تبدیل کر رہے ہیں، سکھ، ہندو اور مسیحی برادری کے لیے تاریخی مقامات کھولنا اہم پیش رفت ہے، مذہبی سیاحت سے مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا،پنجاب کا ورثہ صرف ماضی نہیں، مستقبل کے لیے پیغام ہے۔

رمیش سنگھ اروڑہ کا مزید کہنا تھا کہ تاریخی مقامات اتحاد، احترام اور رواداری کے پل ہیں،پنجاب حکومت ایسے منصوبے مستقبل میں بھی جاری رکھے گی۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے