(محمد اشفاق) پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پارٹی پالیسی کا پابند ہوں مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی کو دیا گیا ہے وہی بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں۔
انسداد دہشتگری کی خصوصی عدالت میں پیشی کے بعد کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان کی بہت مدد کی ہے، ہمارا افغانستان سے جائز مطالبہ ہے کہ انکی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو۔
افغانستان کی خوشحالی کا راستہ پاکستان سے ہے، افغانستان اگر استحکام چاہتا ہے تو اسے پاکستان سے اچھے تعلقات رکھنا ہونگے، ہم امن چاہتے ہیں افغانستان کو دہشتگردی کے خلاف ہمارا ساتھ دینا چاہیے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایران کے بارڈر پر فلحال صورتحال کنٹرول میں ہے، ہم نے بھارت کو جنگ میں ہرایا، اللہ نے ہمیں عزت دی مگر ابھی تک بھارت سے خطرہ ٹلا نہیں ہے۔
مذاکرات سے متعلق ایک سوال پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں پی ٹی آئی کا وائس چیئرمین ہوں، پارٹی پالیسی سے نہیں ہٹ سکتا مگر یہ سوچنا ہوگا کہ آخر اسکا حل کیا ہے، مزاحمت کے بعد بھی تو مفاہمت ہی ہوتی ہے، گفت و شنید سے ہی ملک آگے بڑھ سکتا ہے۔
بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی کو دیا ہے ہم تو جیلوں میں پڑیں ہیں، ہمارے پاس انفارمیشن کم ہے تاہم محمود خان اچکزئی بہتر فیصلہ کرسکتے ہیں کہ کیا کرنا ہے، مزید برآں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری اور میں ایک پارٹی میں رہے ہیں، میں ہسپتال تھا تو وہ عیادت کے لیے آگئے، اب گھر آئے مہمان کو کیا کہوں کہ کیوں ملنے آئے ہو؟
