لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ میں سموگ اور ماحولیاتی آلودگی تدارک سے متعلق درخواستوں پر سماعت،عدالت نے پی ایچ اے کو پارکوں میں کاروباری سرگرمیاں روکنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے داتا دربار کے سامنے سے درختوں کی کٹائی کے معاملے کی انکوائری کا حکم جاری کردیا ۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ کے تدارک کے لیے درخواستوں پر سماعت کی۔ عدالتی حکم پر پی ایچ اے ، محکمہ ماحولیات اور کمیشن کے ممبر سید کمال حیدر سمیت درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق پیش ہوئے۔
ممبر جوڈیشل کمیشن سید کمال حیدر نے عدالت کو بتایا کہ پی ایچ اے نے مساجد کے ساتھ 38 واٹر ٹینکس کو فعال کر دیا ہے،واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ نہ ہونے کے باعث دو پلانٹس کو سیل کر دیا گیا ہے، آٹھ انڈسٹریل یونٹس نے اپنا واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ فعال کر دیا ہے، یکم جنوری سے کل تک دھواں چھوڑنے والے 31 صنعتی یونٹس مسمار کیے گئے ہیں، جنوری میں اب تک متعدد صنعتی اداروں کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔
جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ انڈسٹریز کے لیے ایک خصوصی یونٹ ہونا چاہیے، سب سے زیادہ آلودگی تو انڈسٹریز سے پھیلتی ہے۔
اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے بتایا کہ داتا دربار کے سامنے سڑک کی توسیع کے نام پر درخت کاٹے جا رہے ہیں۔ ایچ اے کے وکیل نے بتایا کہ ہم نے ایل ڈی اے کو اس بارے میں روکا، انہوں نے کہا انہیں کاٹا نہیں جائے گا ان درختوں کو محفوظ بنایا جائے گا۔
جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ پارکس میں پی ایچ اے کاروباری سرگرمیاں بند کرے، یہ پی ایچ اے کا دائرہ اختیار نہیں ہے۔
ممبر جوڈیشل کمیشن نے بتایا کہ نہرو پارک سو سال پرانا پارک تھا، وہ پارک بھی سارا تباہ کر دیا گیا، یہ کوئی بھی منصوبہ بغیر تشہیر کے شروع کر دیتے ہیں۔
جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ میں ایک حکم نامہ جاری کر دیتا ہوں کہ آٹھ سو پارکس میں کوئی بھی کام ہو تو اسے پہلے ممبران جوڈیشل کمیشن سے ڈسکس کیا جائے۔
عدالت نے پی ایچ اے کو پارکس میں کاروباری سرگرمیاں روکنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت اگلے ہفتہ تک کے لیے ملتوی کر دی۔
