(لاہور نیوز) پھلوں کے دام مسلسل بڑھنے کے باعث مہنگے پھل سستے نہ ہو سکے، جبکہ سرکاری ریٹ لسٹ پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔
سرکاری ریٹ لسٹ کے مطابق صرف ایک پھل کی قیمت میں اضافہ کیا گیا، تاہم مارکیٹ میں بیشتر پھل سرکاری نرخوں کے برعکس مہنگے داموں فروخت ہو رہے ہیں۔
پوش علاقوں میں درجہ اول کے پھل منہ مانگے داموں فروخت کئے جا رہے ہیں، جبکہ پسماندہ علاقوں میں مکس درجے کے پھل بھی عوام کی قوتِ خرید سے باہر ہوتے جا رہے ہیں، شہریوں کا کہنا ہے کہ پھل اب غریب کیلئے خواب بنتے جا رہے ہیں۔
سیب کالا کولو پہاڑی کی سرکاری قیمت 400 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم مارکیٹ میں درجہ اول سیب 500 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے، سیب کالا کولو میدانی کو ریٹ لسٹ میں 10 روپے مہنگا کر کے 270 روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے، مگر مارکیٹ میں یہی سیب درجہ اول 350 روپے فی کلو تک بک رہا ہے۔
کیلا درجہ اول سرکاری ریٹ لسٹ میں 150 روپے فی درجن مقرر ہے، لیکن مارکیٹ میں 180 روپے فی درجن تک فروخت ہو رہا ہے، امرود کی سرکاری قیمت 135 روپے فی کلو مقرر ہے، جبکہ فروخت 180 روپے فی کلو تک جاری ہے۔
اس کے علاوہ مسمی کی سرکاری قیمت 170 روپے فی درجن مقرر کی گئی ہے، تاہم مارکیٹ میں مسمی 300 روپے فی درجن تک فروخت ہو رہی ہے، انگور کو 10 روپے بڑھا کر سرکاری ریٹ لسٹ میں 550 روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے، لیکن مارکیٹ میں انگور 720 روپے فی کلو تک بک رہے ہیں۔
پیپتا کی سرکاری قیمت 250 روپے فی کلو مقرر ہے، جبکہ پرچون بازاروں میں 350 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے، کینو سرکاری ریٹ لسٹ میں 220 روپے فی درجن مقرر ہے، تاہم مارکیٹ میں 380 روپے فی درجن تک فروخت جاری ہے۔
فروٹر کی سرکاری قیمت 160 روپے فی درجن مقرر ہے، مگر مارکیٹ میں 300 روپے فی درجن تک وصول کئے جا رہے ہیں، اسی طرح انار قندھاری کی سرکاری قیمت 570 روپے فی کلو مقرر ہے، لیکن مارکیٹ میں 700 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے، جبکہ کھجور ایرانی سرکاری طور پر 515 روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود اوپن مارکیٹوں میں 660 روپے فی کلو تک فروخت ہونے لگی ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ سرکاری ریٹ لسٹ پر سختی سے عملدرآمد کروائے تاکہ مہنگائی سے پریشان عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔
