اپ ڈیٹس
  • 327.00 انڈے فی درجن
  • 411.00 زندہ مرغی
  • 595.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 40.14 قیمت فروخت : 40.21
  • یورو قیمت خرید: 326.38 قیمت فروخت : 326.96
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 377.06 قیمت فروخت : 377.74
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 187.81 قیمت فروخت : 188.14
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 201.78 قیمت فروخت : 202.14
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.76 قیمت فروخت : 1.77
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.63 قیمت فروخت : 74.76
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 76.23 قیمت فروخت : 76.36
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 484000 دس گرام : 414900
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 443663 دس گرام : 380322
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 9019 دس گرام : 7740
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
تجارت

برآمدات کے بجائے ترسیلات زر پر انحصار تشویش ناک ہے: ایس ایم تنویر

13 Jan 2026
13 Jan 2026

(دنیا نیوز) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے رہنما ایس ایم تنویر نے پاکستان کی معاشی ترقی اور استحکام کے لیے برآمدات کے بجائے ترسیلاتِ زر اور قرضوں پر مبنی کھپت پر بڑھتے ہوئے انحصار پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

رہنما ایف پی سی سی آئی ایس ایم تنویر نے اپنے بیان میں پاکستان کے برآمدی شعبے کو درپیش مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی ممکنہ برآمدات میں تقریباً 60 ارب ڈالر کا خلا موجود ہے، پاکستان میں برآمدات کا جی ڈی پی میں حصہ 1990 کی دہائی میں 16 فیصد تھا جو 2024 میں کم ہو کر صرف 10.4 فیصد رہ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے برعکس ویتنام میں برآمدات کا جی ڈی پی سے تناسب 95 فیصد ہے جبکہ بنگلہ دیش جسے کبھی ہم کم تر سمجھتے تھے اب تقریباً 20 فیصد تک پہنچ چکا ہے، اور تھائی لینڈ میں یہ شرح تقریباً 60 فیصد ہے۔

ایس ایم تنویر نے پیداواری لاگت میں اضافہ، عالمی منڈیوں تک محدود رسائی، کم پیداواری صلاحیت اور ناکافی انفراسٹرکچر کو پاکستان کی کمزور برآمدی کارکردگی کی بنیادی وجوہات قرار دیا۔

انہوں نے کہا پاکستان کی برآمدات سنگین چیلنجز سے دوچار ہیں اور ملک کی حقیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے ان مسائل کا حل ناگزیر ہے، ہمیں برآمدات کے فروغ کے لیے مارکیٹ کی بنیاد پر شرحِ تبادلہ اپنانا ہوگی، تجارتی فنانس کو مضبوط کرنا ہوگا، لاجسٹکس اور عالمی معیار پر عملدرآمد بہتر بنانا ہوگا اور تجارتی معاہدوں کو مؤثر بنانا ہوگا۔

ایف پی سی سی آئی کے رہنما نے برآمدات کے فروغ اور درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں مل کر کاروبار دوست ماحول تشکیل دینا ہوگا، انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی اور برآمدی شعبوں میں جدت، ویلیو ایڈیشن اور صنعت کاری کو فروغ دینا ہوگا۔

مزید برآں ایس ایم تنویر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کی برآمدات کو درپیش ساختی مسائل کے حل کے لیے ٹھوس اور فوری اقدامات کرے تاکہ ملک کو پائیدار ترقی اور معاشی خوشحالی کی راہ پر لایا جا سکے۔ 

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے