اورنج لائن میٹرو ٹرین کے7 ارب 39کروڑ بقایاجات کا بوجھ پنجاب حکومت پر آ گیا
(لاہور نیوز) صوبائی دارالحکومت میں اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ مکمل ہونے کے باوجود اربوں روپے کے بقایاجات اب بھی ادا کرنا باقی ہیں، جن کی ذمہ داری موجودہ پنجاب حکومت پر عائد ہو گئی ہے۔
یہ منصوبہ ایگزم بینک چائنا کی 1.62 بلین ڈالر فنڈنگ سے مکمل کیا گیا تھا، تاہم حکومت کی جانب سے بیرونِ ملک قائم اورنج لائن منصوبے کا اکاؤنٹ بند کر دیا گیا ہے۔
اکاؤنٹ بند ہونے کے بعد منصوبے سے متعلق باقی تمام ادائیگیوں کا بوجھ پنجاب حکومت پر منتقل ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اورنج لائن کے 6 مختلف کاموں کے عوض مجموعی طور پر 7 ارب 39 کروڑ 47 لاکھ روپے کی ادائیگی پنجاب حکومت کو کرنا ہو گی۔ اس کے ساتھ ہی ایگزم بینک چائنا سے آنے والی رقم اب کسی بھی مد میں استعمال نہیں کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق سول کنٹریکٹر کا ڈیفیکٹ لائی بیلیٹی پیریڈ مکمل ہو چکا ہے، جس کے بعد 2 ارب 19 کروڑ روپے کی ادائیگی واجب الادا ہے۔ فارن کمپوننٹس کے بقایاجات کی مد میں 28 کروڑ 32 لاکھ روپے ادا کرنا باقی ہیں، جبکہ دیگر کنٹریکٹرز کو 1 ارب 52 کروڑ 67 لاکھ روپے کی مزید ادائیگیاں کرنا ہوں گی۔
اسی طرح شالیمار گارڈن کے قریب یو ای ٹی سب سٹیشن کے 132 کے وی گریڈ کے لیے 46 کروڑ 50 لاکھ روپے درکار ہیں، جو پنجاب حکومت اپنے وسائل سے ادا کرے گی۔ متروکہ وقف املاک بورڈ کی زمین کے بدلے 1 ارب 36 کروڑ روپے کی ادائیگی تاحال نہیں ہو سکی، جبکہ پاکستان پوسٹ کو متبادل گھروں کی تعمیر کے لیے 1 ارب 55 کروڑ روپے کی ادائیگی بھی باقی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ مکمل ہو چکا ہے، تاہم مالی ذمہ داریاں بدستور حکومت کے سر ہیں۔ بقایاجات کی ادائیگی کے لیے ایل ڈی اے انتظامیہ نے سمری ڈرافٹ کر لی ہے، جو منظوری اور فنڈز کے اجرا کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب کو ارسال کی جائے گی۔
