(ویب ڈیسک) وفاقی حکومت کی جانب سے نیٹ میٹرنگ منصوبے پر پابندی کے بعد معاملہ مزید سنگین صورت اختیار کر گیا۔
ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت کے محکمہ انرجی نے اس حوالے سے لیسکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو باضابطہ مراسلہ ارسال کیا ہے، جس کے بعد مختلف سرکاری عمارات میں نیٹ میٹرنگ کی سہولت معطل کر دی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی نئی اور پرانی عمارت میں نیٹ میٹرنگ روک دی گئی ہے، جبکہ سپیکر ہاؤس پر بھی سولر سسٹم کے تحت نیٹ میٹرنگ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، پیپل ہاؤس اور ایم پی اے ہوسٹل میں بھی نیٹ میٹرنگ کی سہولت بند کر دی گئی ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ پنجاب حکومت نے متعدد سرکاری دفاتر میں نیٹ میٹرنگ کیلئے فائلیں جمع کروا رکھی تھیں، تاہم فائلیں مکمل ہونے کے باوجود نیٹ میٹرنگ کی منظوری روک دی گئی، وزارت پاور ڈویژن نے گزشتہ ماہ لیسکو کو نیٹ میٹرنگ سے متعلق فائلوں کی منظوری روکنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔
دوسری جانب نیپرا نے بھی لیسکو سمیت دیگر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سے اس معاملے پر وضاحت طلب کر رکھی ہے، وفاقی حکومت کی جانب سے نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز میں باضابطہ ترمیم سے قبل ہی پابندی عائد کئے جانے پر مختلف حلقوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
