(لاہور نیوز) سال 2025 سائلین کو بروقت انصاف کی فراہمی کا تاریخی سال ثابت ہوا،سال 2025 لاہور ہائیکورٹ کی عدالتی تاریخ میں سائلین کو بروقت انصاف کی فراہمی کے حوالے سے ایک اہم اور یادگار سال کے طور پر سامنے آیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری سے 15 دسمبر 2025 تک لاہور ہائیکورٹ میں ایک لاکھ 66 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے گئے، جو ایک ریکارڈ ہے، ان فیصلوں کے باعث عدالت عالیہ لاہور میں زیرِ التواء مقدمات کی مجموعی تعداد کم ہو کر ایک لاکھ 69 ہزار سے بھی کم رہ گئی ہے، جو سائلین کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
عدالتی اصلاحات اور مؤثر کیس مینجمنٹ کے باعث عدالتوں پر عوامی اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ رواں سال 15 دسمبر تک لاہور ہائیکورٹ میں ایک لاکھ 39 ہزار سے زائد نئے مقدمات دائر کیے گئے تاہم اس کے باوجود فیصلوں کی رفتار میں کمی نہیں آنے دی گئی، پرنسپل سیٹ لاہور پر بھی ریکارڈ کارکردگی دیکھنے میں آئی، جہاں 15 دسمبر تک 89 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے گئے۔
اس وقت پرنسپل سیٹ پر زیرِ التواء مقدمات کی تعداد کم ہو کر صرف ایک لاکھ کے قریب رہ گئی ہے، اسی عرصے کے دوران پرنسپل سیٹ پر 75 ہزار سے زائد نئے مقدمات دائر ہوئے۔لاہور ہائیکورٹ کے علاقائی بنچز نے بھی شاندار عدالتی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
بہاولپور بنچ میں رواں سال 17 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے گئے، جس کے بعد زیرِ التواء مقدمات کی تعداد کم ہو کر 17 ہزار سے بھی کم رہ گئی ہے، اسی طرح ملتان بنچ میں 42 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے گئے جبکہ ملتان بنچ میں زیرِ التواء مقدمات کی تعداد اب 34 ہزار سے بھی کم ہو چکی ہے۔
راولپنڈی بنچ میں بھی 15 دسمبر تک 17 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے گئے، جس کے نتیجے میں وہاں زیرِ التواء مقدمات کی تعداد کم ہو کر صرف 12 ہزار سے بھی کم رہ گئی ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق چیف جسٹس عالیہ نیلم کی جانب سے عدالتی نگرانی، کیسز کی بروقت سماعت اور انتظامی اصلاحات نے انصاف کی فراہمی کے عمل کو تیز اور بہتر بنایا۔
سائلین کی بڑی تعداد نے بھی عدالتی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، مجموعی طور پر سال 2025 کو لاہور ہائیکورٹ میں بروقت انصاف، ریکارڈ فیصلوں اور زیرِ التواء مقدمات میں تاریخی کمی کے حوالے سے ایک مثالی سال قرار دیا جا رہا ہے۔
