(لاہور نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد آصف کے خلاف معروف وکیل کرنل (ریٹائرڈ) انعام الرّحیم ایڈووکیٹ نے ریفرنس دائر کر دیا۔
سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے درخواسٹ گزار کرنل انعام الرحیم نے جسٹس محمد آصف کو ریسپانڈنٹ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر اپنے عہدے کے اثر و رسوخ کا غلط استعمال کرتے ہوئے متوفی لڑکیوں کے قانونی ورثا پر دباؤ ڈالا تاکہ ذاتی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 6 دسمبر 2025 کو علاقہ مجسٹریٹ نے ان کے بیٹے کو خفیہ طریقے سے ضمانت پر رہا کر دیا اور بعد میں عدالتی اوقاتِ کار کے بعد ان کیمرا یا خفیہ طریقہ کار سے فریقین کے درمیان سمجھوتے کے بیانات درج کیے گئے تاکہ کیس کو قابل تصفیہ ظاہر کیا جا سکے۔
تمام قانونی وارثوں کے بیانات درج نہیں کیے گئے کیونکہ شکایت کنندہ کے بھائی اور بہن حاضر نہیں ہوئے اور متوفیہ کی والدہ تابندہ بتول کا بیان بھی درج نہیں کیا گیا۔
