(لاہور نیوز) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے انکلوسو ڈویلپمنٹ تھیوری پر مبنی "سب کیلئے ترقی" کے ماڈل کے تحت ایک نئی مثال قائم کر دی۔ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار اپوزیشن کے حلقوں کو بھی بڑے ترقیاتی فنڈز میں شامل کر کے ماضی کی روایت کو توڑ دیا۔
پنجاب حکومت نے مثالی گاؤں پروگرام کا دائرہ اپوزیشن کے حلقوں تک بڑھاتے ہوئے 500 سے زائد گاؤں میں ترقیاتی کاموں کا آغاز کر دیا ہے، جن پر مجموعی طور پر 136 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔ ہر گاؤں کے لیے اوسطاً 22 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
ان منصوبوں کے تحت گاؤں میں گلیوں کی پختگی، سیوریج نظام کی بہتری، سٹریٹ لائٹس کی تنصیب اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی، یہ پہلا موقع ہے جب پنجاب میں حکومتی جماعت نے سیاسی تفریق کے بغیر اپوزیشن کے علاقوں کو بھی ترقیاتی ایجنڈے میں شامل کیا ہے، جبکہ سابق ادوار میں اپوزیشن جماعتوں کو اکثر ترقیاتی فنڈز سے محروم رکھا جاتا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کا یہ قدم سیاسی رواداری اور شراکتی طرز حکمرانی کی عملی تصویر قرار دیا جا رہا ہے، جس کی اپوزیشن حلقوں میں بھی پذیرائی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔