(لاہور نیوز) صوبہ پنجاب میں 41 اضلاع میں واسا کے قیام کے بعد ترقیاتی نظام میں اہم تبدیلیوں کا فیصلہ کر لیا گیا۔
حکومت نے 25 اضلاع میں ترقیاتی سکیمیں براہِ راست واسا کے سپرد کرنے کی حکمت عملی اپناتے ہوئے بلدیات، ضلعی حکومتوں اور پی ایم یو کو ترقیاتی عمل سے الگ رکھنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق واسا ماڈل کو مکمل اختیار دینے کے تحت پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام فیز ٹو میں نئے قائم ہونے والے واساز کو مکمل انتظامی اور مالی اختیارات حاصل ہوں گے، سیوریج اور واٹر سپلائی منصوبوں کی تعمیر بھی متعلقہ واسا خود کرائے گا جبکہ منصوبوں کی آپریشن اینڈ مینٹینس کی ذمہ داری بھی اسی ادارے کے پاس ہو گی۔
حکومت نے بجٹ 2026-27 کیلئے 25 اضلاع کو ہدایت کی ہے کہ وہ 10،10 ارب روپے تک کی ترقیاتی سکیمیں تجویز کریں، اس مقصد کیلئے پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 250 ارب روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
ماضی میں لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام کے دوران ترقیاتی ذمہ داریاں مختلف اداروں میں تقسیم تھیں، بعد ازاں محکمہ ہاؤسنگ نے علیحدہ پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ قائم کیا تھا، اسی طرح متعدد اضلاع میں پی ایم ڈی ایف سی کے ذریعے ترقیاتی سکیمیں شروع کی گئی تھیں۔
تاہم نئی پالیسی کے تحت حکومت نے واسا ماڈل کو مکمل خودمختاری دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ منصوبوں کی تکمیل، شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔
