اپ ڈیٹس
  • 337.00 انڈے فی درجن
  • 378.00 زندہ مرغی
  • 548.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 40.24 قیمت فروخت : 40.31
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 279.65 قیمت فروخت : 280.15
  • یورو قیمت خرید: 331.93 قیمت فروخت : 332.52
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 382.71 قیمت فروخت : 383.39
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 194.11 قیمت فروخت : 194.45
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 205.01 قیمت فروخت : 205.38
  • جاپانی ین قیمت خرید: 1.81 قیمت فروخت : 1.81
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.56 قیمت فروخت : 74.69
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 76.14 قیمت فروخت : 76.27
  • کویتی دینار قیمت خرید: 916.13 قیمت فروخت : 917.77
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 509900 دس گرام : 437200
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 467405 دس گرام : 400764
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 8943 دس گرام : 7675
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
جرم وانصاف

جعلی اورمصنوعی دودھ تیارو ترسیل کرنیوالے کسی رعایت کے مستحق نہیں: لاہور ہائیکورٹ

04 Feb 2026
04 Feb 2026

(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے 2400 لیٹر ملاوٹ شدہ دودھ کی ترسیل کے مقدمے میں ملزم محمد یونس کی ضمانت پر رہائی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جعلی اورمصنوعی دودھ تیارو ترسیل کرنیوالے کسی رعایت کے مستحق نہیں ۔

 جسٹس تنویر احمد شیخ نے چھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دودھ کو مکمل غذا اور مشروب کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور یہ ہڈیوں کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جس سے فریکچر کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ عدالت کے مطابق مصنوعی دودھ، جسے ’’میٹھا زہر‘‘ بھی کہا جاتا ہے، درحقیقت دودھ نہیں بلکہ قدرتی دودھ کی مصنوعی نقل ہے، جس میں مقدار بڑھانے کے لیے انتہائی خطرناک ملاوٹ کی جاتی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ مصنوعی دودھ فوری طور پر جان لیوا ثابت نہیں ہوتا، لیکن آہستہ آہستہ انسانی جسم کو بیماریوں کے لیے زرخیز زمین بنا دیتا ہے، تحقیقات کے مطابق اس دودھ کا استعمال انسانی صحت کو نہایت سنگین نقصانات پہنچاتا ہے اور یہ خاص طور پر حاملہ خواتین، بچوں اور دل کے مریضوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔

عدالت نے تسلیم کیا کہ موجودہ مقدمے میں سزا کی زیادہ سے زیادہ مدت پانچ سال ہے اور عمومی طور پر ایسے مقدمات میں ضمانت منظور ہو جاتی ہے، تاہم سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کے مطابق ہر کیس میں ضمانت دینا لازم نہیں، ہر مقدمہ اپنے مخصوص حالات اور حقائق کی بنیاد پر جانچا جانا ضروری ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ غیر معمولی حالات میں عدالت ایسے مقدمات میں بھی ضمانت دینے سے انکار کر سکتی ہے، موجودہ کیس کے حالات ایک نہایت خوفناک تصویر پیش کرتے ہیں، اس لیے جعلی، مصنوعی اور غیر معیاری دودھ تیار یا ترسیل کرنے والے کسی نرمی کے مستحق نہیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم دودھ تیار نہیں کر رہا تھا اور اس کا کیس فوڈ اتھارٹی ایکٹ کے زمرے میں نہیں آتا، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ ملزم کو ایک جگہ سے دوسری جگہ ٹینکر کے ذریعے ملاوٹ شدہ دودھ منتقل کرتے ہوئے پکڑا گیا، جو واضح طور پر فوڈ اتھارٹی ایکٹ کے تحت جرم ہے۔

ملزم محمد یونس کے خلاف تھانہ کوٹ رادھا کشن میں فوڈ اتھارٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، جبکہ جوڈیشل مجسٹریٹ اور سیشن عدالت پہلے ہی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر چکی تھیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے بھی ضمانت کی درخواست خارج کرتے ہوئے ملزم کو رعایت دینے سے انکار کر دیا۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے