(لاہور نیوز) پنجاب فوڈ اتھارٹی نے مضر صحت ریڈی ٹو کک فروزن میٹ کی فروخت کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے ٹاؤن شپ میں واقع ایک میٹ پروسیسنگ یونٹ بند کر دیا اور 1500 کلو گرام ناقص فروزن میٹ تلف کر دیا۔
فوڈ اتھارٹی نے یونٹ پر ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے، ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی عاصم جاوید کے مطابق یونٹ میں انتہائی ناقص انتظامات پائے گئے، جہاں گوشت کو گندے اور بدبودار چلرز میں سٹور کیا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ یونٹ میں بغیر لائسنس اور غیر منظور شدہ لیبل لگا کر مختلف فروزن اشیاء کی پیکنگ کی جا رہی تھی۔
کارروائی کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ یونٹ کی دیواریں فنگس زدہ تھیں جبکہ فروخت کیلئے تیار گوشت ٹوٹے ہوئے فرش پر رکھا گیا تھا، ڈی جی فوڈ اتھارٹی کے مطابق انتہائی لازم ریکارڈ، ضروری دستاویزات اور ملازمین کے میڈیکل اور ٹریننگ سرٹیفکیٹس بھی موجود نہیں تھے۔
عاصم جاوید نے بتایا کہ غیر رجسٹرڈ فروزن فوڈز کی پیکنگ کر کے انہیں مارکیٹ میں سپلائی کیا جانا تھا، جو انسانی صحت کیلئے انتہائی مضر ہے، ناقص گوشت کا استعمال انسانی صحت کیلئے شدید خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے خوراک کا کاروبار کرنے والوں کو ہدایت کی کہ وہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں، وزیراعلیٰ پنجاب کے احکامات کے مطابق جعلساز مافیا کے خاتمے کیلئے صوبہ بھر میں بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں۔
