(ویب ڈیسک) پنجاب میں بڑے پلازوں، مارکیٹس اور شاپنگ مالز سے متعلق فائر سیفٹی سروے کی ابتدائی رپورٹ حکومت کو پیش کر دی گئی ۔
پنجاب ایمرجنسی اینڈ ریسکیو ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے صوبے بھر میں 2214 عمارتوں کا ابتدائی فائر سیفٹی سروے کیا گیا، جس میں تشویشناک صورتحال سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 1722 عمارتوں کو ڈی کیٹیگری میں رکھا گیا ہے، جن میں سنگین حفاظتی خدشات موجود ہیں۔
لاہور میں صورتحال سب سے زیادہ خطرناک قرار دی گئی ہے، جہاں 682 عمارتیں ڈی گریڈ جبکہ 13 عمارتوں کو مکمل طور پرغیرمحفوظ قرار دیا گیا ہے۔
ڈی کیٹیگری کی عمارتوں میں فائر الارم، اسپرنکلر سسٹم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جو کسی بڑے حادثے کی صورت میں جان و مال کے شدید نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب میں صرف 65 عمارتیں اے گریڈ کیٹیگری میں شامل ہیں، جبکہ بی کیٹگری میں 129 اور سی کیٹگری میں 284 عمارتیں شامل کی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق کراچی کے گل پلازہ میں آتشزدگی واقعہ کے بعد پنجاب بھر میں فائر سیفٹی چیکس مزید سخت کر دیئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی صوبے کی تمام عمارتوں میں فائر سیفٹی کے مؤثر انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی ہے۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ڈی گریڈ عمارتوں کو فوری نوٹس جاری کیے جائیں اور ان میں فائر سیفٹی سسٹمز کی تنصیب کو لازمی قرار دیا جائے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ مقررہ مدت میں عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں جرمانے اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
