(لاہور نیوز) شہر میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ کنٹرولڈ ریٹ پر دستیاب آٹے کے تھیلوں کی سپلائی بھی بگڑنے لگی ہے۔
گزشتہ 15 دنوں کے دوران آٹا مسلسل مہنگائی کی لپیٹ میں رہا، جس سے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
چکی مالکان کے مطابق چکی آٹا دو ہفتوں میں 10 روپے فی کلو مہنگا ہو چکا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 160 روپے سے بڑھ کر 170 روپے فی کلو ہو گئی ہے، اسی طرح فلور ملز کے معیاری آٹے کے نرخوں میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے، جہاں 15 کلو والا تھیلا 200 روپے مہنگا ہو چکا ہے۔
مختلف فلور ملز کے 15 کلو آٹے کے تھیلوں کی قیمت چند دنوں میں 1700 روپے سے بڑھ کر 1900 روپے تک جا پہنچی ہے۔
اس کے علاوہ برانڈڈ چکی آٹے کے 5 کلو کے تھیلے کی قیمت میں بھی 200 روپے اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد مختلف برانڈز کا 5 کلو آٹا 700 روپے سے بڑھ کر 900 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
دوسری جانب کنٹرولڈ ریٹ پر دستیاب 10 اور 20 کلو آٹے کے تھیلوں کی قیمتیں بالترتیب 905 اور 1810 روپے مقرر ہیں۔
غلہ منڈیوں میں گندم کے نرخوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، تاجروں کے مطابق 20 دنوں میں گندم 600 روپے فی من تک مہنگی ہو چکی ہے، ڈیمانڈ اور سپلائی میں بگاڑ کے باعث 4400 روپے فی من میں دستیاب موالی گندم 5 ہزار روپے فی من تک فروخت ہو رہی ہے۔
چکی مالکان کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں گندم کی قلت کے باعث قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
