(لاہور نیوز) جنرل سیکرٹری برائلر فارمرز ایسوسی ایشن آصف گوندل نے کہا ہے کہ مرغی کے مہنگے ہونے کی بڑی وجہ حکومت خود ہے تاہم آج سے 2 ماہ بعد مرغی کا ملنا محال ہو جائے گا۔
جنرل سیکرٹری برائلرفارمرز آصف گوندل نے کہا پیدواری لاگت بڑھ رہی ہے سپلائی چین متاثر ہوگی۔63فیصد ٹیکس حکومت لےرہی ہے ،مرغی کے مہنگے ہونے کی بڑی وجہ حکومت خود ہے۔
انہوں نے کہا کہ سستی پروٹین کو حکومت نے انتہائی مہنگا کر دیا ہے ، مرغی کی قلت کے وقت سپلائی کو بحال رکھنا اصل کام ہے، برائلر فارمرز نے کہا آج سے 2 ماہ بعد مرغی کا ملنا محال ہو جائے گا کیونکہ اس پر ٹیکسز بڑھا دیئےگئے، مرغی اور اس کے گوشت پر 65 فیصد ٹیکس لگ چکا ہے۔چوزہ 20 روپے بھی نہیں ملتامگرحکومت فی چوزےپر10روپےٹیکس لےلیاجاتا ہے۔
ملک میں 40 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں ۔مرغی کا آنے والا بحران سب بحرانوں سے زیادہ ہو گا، 2014 سے پہلے مرغی پر سیلز ٹیکس نہیں تھا، اس وجہ سے مرغی کی پیداوار زیادہ تھی،حکومت نے ہمارے مطالبات نہ مانے تو پر امن احتجاج کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پر امن احتجاج سے بھی بات نہ بنی تو مرغی کے فارمز بند کر دیں گے، 4 فیصد فردر ٹیکس لگا دیا گیا، کھانے کی چیز پر ڈبل ٹیکس لگ نہیں سکتا، جتنے ٹیکس مرغی پر لگ چکے ہیں اسی لئے مرغی سستی نہیں ہو سکتی مہنگی ہو گی، گزشتہ ہفتے 4 فیصد فرد رسیلز ٹیکس لگا دیا اور 6 ماہ قبل چوزے پر 10روپے ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔
