اپ ڈیٹس
  • 337.00 انڈے فی درجن
  • 368.00 زندہ مرغی
  • 533.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • چینی یوآن قیمت خرید: 40.70 قیمت فروخت : 40.77
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 279.75 قیمت فروخت : 280.25
  • یورو قیمت خرید: 335.30 قیمت فروخت : 335.90
  • برطانوی پاؤنڈ قیمت خرید: 386.95 قیمت فروخت : 387.64
  • آسٹریلیا ڈالر قیمت خرید: 198.01 قیمت فروخت : 198.37
  • کینیڈا ڈالر قیمت خرید: 206.88 قیمت فروخت : 207.25
  • سعودی ریال قیمت خرید: 74.58 قیمت فروخت : 74.71
  • اماراتی درہم قیمت خرید: 76.68 قیمت فروخت : 76.82
  • کویتی دینار قیمت خرید: 917.95 قیمت فروخت : 919.59
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 555000 دس گرام : 475800
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 508746 دس گرام : 436147
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 12000 دس گرام : 10299
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار
جرم وانصاف

ڈانس پارٹی سے گرفتار ملزموں کی ویڈیو وائرل کرنیوالے اہلکاروں کو توہین عدالت کے نوٹس

14 Apr 2025
14 Apr 2025

(محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے قصور ڈانس پارٹی سے گرفتار ملزموں کی ویڈیو بنانے اور وائرل کرنے پر ایس ایچ او، کانسٹیبل صادق اور کانسٹیبل ندیم کو توہین عدالت کے نوٹسز جاری کر دیئے۔

جسٹس علی ضیا باجوہ  نے قرار دیا کہ جو کام پولیس اہلکاروں  نے کیا ہے وہ کسی بھی معاشرے میں قابل قبول نہیں ہے، پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ  نے پولیس کے ٹک ٹاک بنانے پر پابندی کی استدعا کر دی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی ضیا باجوہ  نے شہری وشال شاکر کی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار وشال شاکر کی جانب سے ایڈووکیٹ میاں علی حیدر عدالت میں پیش ہوئے۔

وکیل  نے مؤقف اختیار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے زیر حراست ملزموں کی ویڈیو بنانے سے منع کر رکھا ہے، لہٰذا عدالت ڈی پی او قصور، متعلقہ ڈی سی پی اور ایس ایچ او کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے، دوران سماعت عدالتی حکم پر ڈی پی او قصور عیسیٰ سکھیرا، پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ اور متعلقہ پولیس افسران پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر جسٹس علی ضیا باجوہ  نے استفسار کیا کہ ڈی پی او صاحب آپ نے اس حوالے سے کیا کیا؟ ڈی پی او صاحب آپ نے پوچھا کہ پولیس اہلکاروں کی بہادری  کیسے ہوئی لڑکیوں کے بال کھینچ کر ویڈیو بنانے کی؟

ڈی پی او قصور عیسیٰ سکھیرا  نے عدالت کو بتایا کہ یہ واقعہ بہت افسوسناک اور بد قسمتی کی بات ہے لیکن ہم  نے متعلقہ پولیس اہلکاروں کو نوکری سے برخاست کر دیا ہے، یہ کوئی نجی ایونٹ نہیں تھا، اس کی باقاعدہ سوشل میڈیا پر تشہیر کی گئی تھی۔

جسٹس علی ضیا باجوہ نے کہا کہ جو کام پولیس اہلکاروں  نے کیا ہے وہ کسی بھی معاشرے میں قابل قبول نہیں ہے، کیا آپ یقین دہانی کروا سکتے ہیں کہ دوبارہ آپ کے ضلع میں یہ نہیں ہو گا۔

ڈی پی او قصور  نے بتایا کہ 48 گھنٹے کے دوران میں  نے اس واقعہ پر ایکشن  لے کر پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا، صبح 5 بجے تک خود بیٹھا رہا اور خود اس معاملے کی انکوائری کی، تفتیشی سب انسپکٹر اور دو کانسٹیبلوں کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتار کروایا۔

انہوں  نے مزید بتایا کہ متعلقہ ایس ایچ او ڈانس پارٹی منعقد کروانے والوں کے ساتھ رابطے میں تھا، ایس ایچ او  نے ریڈ سے پہلے پارٹی منعقد کروانے والوں کو آگاہ کیا، موقع سے شراب کی بوتلیں منشیات اور دیگر اشیاء برآمد ہونے کے باوجود کمزور ایف آئی آر درج کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ کمزور ایف آئی آر کا فائدہ ملزموں کو ہوا جس کی وجہ سے مجسٹریٹ نے مقدمہ ڈسچارج کیا، اس لئے ایس ایچ او کو معطل کرکے برطرفی کے لئے سفارش آر پی او کو بھجوا دی۔

پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ نے بتایا کہ ملزموں کی ویڈیوز بنا کر وائرل کرنے سے پولیس پراسیکیوشن کا کیس خراب کرتی ہے، پولیس کو قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ملزموں کی ویڈیوز وائرل کریں۔

انہوں  نے کہا کہ پولیس کا کام ملزموں کو جرم سے روکنا اور قانون کے تحت کارروائی کرنا ہے لیکن پولیس نے ایسا نہیں کیا، پولیس کے ٹک ٹاک بنانے پر پابندی لگائی جائے کیونکہ پولیس اہلکار ویوز کے لالچ میں اپنے فرائض چھوڑ دیتی ہے، یہ ڈسپلن فورس ہے۔

ڈی پی او قصور  نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ میرے ضلع میں دوبارہ ایسا نہیں ہو گا، جسٹس علی ضیا باجوہ نے کہا کہ اس سماعت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ڈانس پارٹی اور منشیات استعمال کرنے والوں کو کلین چٹ مل گئی۔

جسٹس علی ضیا باجوہ کا مزید کہنا تھا کہ پولیس ایسے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھے لیکن ملزموں کو پکڑ کر ان کی وٖیڈیوز وائرل کرنا اس کی اجازت قانون نہیں دیتا اور اس حوالے سے عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔

عدالت نے ڈی پی او سے کہا کہ آئندہ تاریخ کے لئے آپ اپنے ایس پی کی ڈیوٹی لگائیں آپ کو آنے کی ضرورت نہیں، جسٹس علی ضیا باجوہ نے پولیس کے ٹک ٹاک کے استعمال پر پابندی کے لئے آئندہ سماعت پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو طلب کر لیا۔

عدالت نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل عدالت کی معاونت کریں کہ کیا کسی ملک میں ملزموں کو ایسے ایکسپوز کرنے کا قانون ہے؟ عدالت نے مزید کارروائی ملتوی کر دی۔

Install our App

آپ کی اس خبر کے متعلق رائے