اپ ڈیٹس
  • 262.00 انڈے فی درجن
  • 302.00 زندہ مرغی
  • 438.00 گوشت مرغی
  • پولٹری
  • امریکن ڈالر قیمت خرید: 278.10 قیمت فروخت : 278.30
  • کویتی دینار قیمت خرید: 905.60 قیمت فروخت : 907.22
  • کرنسی مارکیٹ
  • تولہ: 248400 دس گرام : 212900
  • 24 سونا قیراط
  • تولہ: 227698 دس گرام : 195157
  • 22 سونا قیراط
  • تولہ: 3097 دس گرام : 2658
  • چاندی تیزابی
  • صرافہ بازار

عجائب گھر

لاہور عجائب گھر

لاہور عجائب گھر 66-1865ء میں بنا جوپہلے ٹولنٹن مارکیٹ کی بلڈنگ میں واقع تھا پھر1894ء میں عجائب گھر کو اس کی موجودہ بلڈنگ جو کہ مال روڈ پر واقع ہے، میں شفٹ کر دیا گیا۔جون لوک وڈ کپلنگ کا شمار اس عجائب گھر کے بنانے والوں میں ہوتا ہے۔ سرگنگا رام نے اس کی موجودہ بلڈنگ کو ڈیزائن کیا تھا ۔ یہ میوزیم یونیورسٹی ہال کی قدیم عمارت کے بالمقابل واقع مغلیہ طرز تعمیر کا ایک شاہکار اور ملک کا سب سے بڑا عجائب گھر ہے۔

عجائب گھر مغل اور برٹش دور کی پیٹنگز، سکوں، پاکستان کی دستکاری، بڑے بڑے بُدھا اور پرانے زمانے کے برتن، ہتھیار اور کپڑوں سے سجایا گیا ہے اور ایک فوٹو گیلری بھی موجود ہے جو کہ پاکستان کے وجود میں آنے کا منظر پیش کرتی ہے۔

فقیر خانا میوزیم

فقیر خانا میوزیم بھاٹی گیٹ کے اندر واقع ہے۔ یہ ایک عظیم اور دلچسپ نجی میوزیم ہے جو ملاحظہ کے قابل ہے ۔میوزیم میں عظیم فنکاروں کی مختلف قدیم پینٹنگز، کتابیں اور تاریخی نوادرات موجود ہیں۔

جاوید منزل

جاوید منزل کو اب اقبال میوزیم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ 1977ء میں جب علامہ اقبال کا صد سالہ جشن ولادت منایا جا رہا تھا تو حکومت نے اقبال منزل، سیالکوٹ، اقبال کی میکلوڈ روڈ والی رہائش گاہ اور جاوید منزل کو تحویل میں لینے کا منصوبہ بنایا۔ اس کے بعد ان تینوں مقامات کو میوزیم میں بدل دیا گیا۔ حکومت نے اس سلسلے میں ان عمارات کو خرید لیا تھا۔

مئی 1935ء میں علامہ اقبال اور ان کے اہل خانہ میکلوڈ روڈ والی کوٹھی سے جاوید منزل میں منتقل ہوگئے ۔ علامہ اقبال نے میکلوڈ روڈ والے گھر میں 13 سال گزارے،وہ یہاں 1922ء میں آئے تھے۔ آخری عمر میں علامہ کو اپنا گھر ملا تو اسے اپنے چہیتے صاحبزادے ''جاوید'' کے نام سے موسوم کر دیا ۔ حکومت جاپان نے اس ضمن میں بہت مدد کی اور اقبال میوزیم کے لیے جاپان کے ثقافتی فنڈ سے شوکیسوں اور ائیر کنڈیشنروں کے علاوہ متعلقہ سامان اور دیگر امور کی انجام دہی کے لیے 54لاکھ روپے کی اضافی امداد بھی مہیا کی ۔ میوزیم کی تیاری کے بعد اسے محکمہ آثار قدیمہ حکومت پاکستان کے سپرد کر دیا گیا ،جو اب بھی اس کی تحویل میں ہیں ۔ اقبال میوزیم، 9 گیلریوں پر مشتمل ہے۔ میوزیم میں علامہ کی کئی اشیا موجود ہیں، جو ان کے صاحبزادے جاوید اقبال نے میوزیم کو عطیہ کی تھیں۔ ان اشیاء میں اقبال کا پاسپورٹ، دستخط کی مہر، ملاقاتی کارڈوں والا بٹوہ، بنک کی کتاب، عینکیں ، انگوٹھیاں، کف لنکس، پگڑی، قمیض، جوتے، کوٹ، تولیے ، چھڑیاں، ٹائیاں، کالر، دستانے، وکالتی کوٹ ، جناح کیپس، گرم سوٹ جو لندن کی ریجنٹ سٹریٹ سے سلوائے گئے تھے۔ پشمینہ شیروانی، حیدر آباد دکن کے وزیر اعظم مہاراجہ سرکرشن پرشاد کی جانب سے ارسال کردہ قالین، قلم، مسودے،خطوط، دستاویزات، تصاویر اور متعدد دیگر اشیاء شامل ہیں۔ میوزیم کا رقبہ تقریباً سات کنال ہے۔ (شیخ نوید اسلم کی کتاب ''پاکستان کے آثارِ قدیمہ'' سے ماخوذ)

شاکر علی میوزیم

شاکر علی میوزیم، یہ میوزیم در اصل شاکر علی کے ذاتی گھر 93 ٹپیو بلاک، نیو گارڈن ٹاؤن لاہور، میں ان کی وفات کے بعد بنایا گیا.

ادارہ ثقافت پاکستاننے اس گھر کو خرید کر 1976 ء میں رسمی طور پر ایک میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا. اس کا مقصد نہ صرف عظیم فنکار کی پینٹنگز کو صرف ایک چھت کے تحت محفوظ کرنا تھا بلکہ عوام کو جدید اور روایتی طرز تعمیر سے متعارف کروانا تھا۔