پنجاب: کتابوں کی خریداری میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا انکشاف

05-09-2024

(لاہور نیوز ) پنجاب میں کتابوں کی خریداری کیلئے جاری ٹینڈر میں بڑے پیمانے پر مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق پنجاب پبلک لائبریریز کے تحت 7 کروڑ روپے مالیت سے کتابوں کی خریداری میں مخصوص اداروں پر نوازشات کی گئیں، آل پاکستان جنرل بُکس پبلشرز نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو مراسلہ بھی بھجوا دیا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ من پسند پبلشرز کو نوازنے کیلئے لائبریریوں کیلئے غیر ضروری اور غیر معیاری کتابیں ٹینڈر دستاویز میں شامل کر دی گئیں، سرکاری لائبریریز کے لیے رضیہ بٹ کے ناول، پتھروں سے علاج، اڈلٹ بکس پر مبنی کتابوں کی خریداری کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ  پبلشر کے نام کا خانہ خالی چھوڑ کر کچھ من پسند پبلشرز کو نوازنے کا منصوبہ بنایاگیا ،اقرباء پروری کو خفیہ رکھنے کے لیے ٹینڈر دستاویز سے پبلشرز کے نام نکال دیئے گئے۔  سنگ میل کی ایک ہزار اور بک کارنر جہلم کی پانچ سو کتابیں شامل کر کے اقرباء پروری کرنے کا انکشاف ہوا  ہے، انہی پبلشرز کےسہ ماہی رسالہ "تسطیر" کی سالوں پرانی فائلیں بھی کتابوں کی فہرست میں شامل کر دی گئیں اور پرانی کتابوں کے کنٹینر سے خریدا گیا مال فہرست میں شامل کر دیا گیا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ انگریزی کی 2 ہزار 468 کتب میں سے ایک ہزار 760 سے زائد کتب ناولز، کہانیوں اور غیر علمی مواد پر مبنی ہیں، ردّی سے خریدی گئی انگریزی کتب کی قیمتیں ڈالرز اور پاؤنڈز کے حساب سے شامل کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ اُردو کی 4 ہزار 162 کتب میں افسانہ نگاری، انشاء پردازی، انسائیکلوپیڈیا کی سینکڑوں کتابیں شامل کر دی گئیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر پنجاب پبلک لائبریریز حافظ توفیق پر تین پبلشرز کو نوازنے کے لیے ٹینڈر دستاویز تیار کرنے کا الزام ہے،تینوں پبلشرز کو نوازنے سے کتابوں کی اشاعت کرنے والے 300 اداروں کا معاشی قتل کیا جارہا ہے، سکیورٹی بڈ کی رقم 35 لاکھ روپے رکھ کر 270 سے زائد پبلشرز کو ٹینڈر پراسیس سے باہر کر دیا گیا۔