’مائی ری‘ پر شدید تنقید کے بعد ڈرامے کے ڈائریکٹر کی وضاحت آگئی

09-15-2023

(ویب ڈیسک) سماجی مسائل اور کم عمر کی شادی پر بننے والا ڈراما ’مائی ری‘ پر سوشل میڈیا صارفین کی تنقید پر ڈائریکٹر میسم نقوی نے وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈرامے میں بچوں کا رومانس نہیں دکھایا جارہا، ڈراما کسی الگ دنیا کی کہانی نہیں ہے، یہ آپ کے معاشرے کی کہانی ہے۔

مائی ری‘ میں عینا آصف نے کم عمر بیوی کا کردار ادا کیا ہے جب کہ ان کے شوہر کا کردار ثمر عباس نے ادا کیا ہے اور دونوں کی حقیقی عمر بھی 15 سال تک ہے۔ ڈرامے کے ذریعے سماج میں کم عمری کی شادی کی حوصلہ شکنی کی کوشش کی جا رہی ہے اور دکھایا جا رہا ہے کہ نابالغ بچوں کی شادیاں کس طرح ان کی زندگیاں تباہ کر دیتی ہیں۔ اگرچہ ڈرامے میں پہلے ہی عینی (عینا آصف) اور فاخر (ثمر عباس) کی شادی کو دکھایا جا چکا ہے اور دونوں کو نوجوان جوڑے کی صورت میں رومانوی انداز میں بھی دکھایا جا چکا ہے۔ لیکن ڈرامے کی 11 ستمبر کو نشر ہونے والی چالیسویں قسط میں عینا آصف کے حاملہ ہونے کو دکھایا گیا، جس پر کئی صارفین نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے ڈرامے کی کہانی اور خود اداکارہ پر بھی تنقید کی۔ ڈائریکٹر میسم نقوی نے ایک حالیہ انٹرویو میں مائی ری کی کہانی پر کھل کر گفتگو کی۔ انہوں نے ڈرامے کی سکرپٹ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سکرپٹ پر ڈراما بنانے کے لیے پہلے چینل نے منع کردیا تھا کیونکہ یہ بہت حساس موضوع تھا، اس موضوع پر ہم کھل کر بات نہیں کرسکتے۔ میسم نقوی نے کہا کہ ہم وہ لوگ ہیں جو کم عمر شادی کو بہت نارمل سمجھتے ہیں، پہلے برصغیر میں کم عمر شادی ہوجانا بڑی بات نہیں تھی، 14 سے 15 سال کی عمر میں خواتین کے بچے ہوجاتے تھے، لیکن اس سلسلے میں جب وقت کے ساتھ ساتھ مسائل پیدا ہوئے تو اس بیماری یا مسائل کی نشاندہی نہیں کی گئی، اس لیے ایسے موضوعات پر بات کرنا یا ڈراما بنانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے اس ڈرامے میں کچھ خرابی رہ گئی ہوں، مائی ری میں جتنی بھی اچھائی ہے وہ میرے اداکاروں، رائٹر، پروڈکشن ہاؤس اور چینل کی ہے اور جو بُرائی ہے وہ میں کھلے دل کے ساتھ میں خود تسلیم کرتا ہے۔ مائی ری پر ہونے والی تنقید پر بات کرتے ہوئے میسم نقوی نے کہا کہ مائی ری کو یوٹیوب پر کروڑوں لوگ دیکھ رہے ہیں، اور اگر ان کروڑوں لوگوں میں اگر 2 سے 3 ہزار لوگ تبصرہ کررہے ہیں تو میں اسے glorification نہیں کہتا، یہ وہ لوگ ہیں جو صرف عینی اور فاخر کے سین دیکھ رہے ہیں اور جو لوگ صرف ان دونوں کے سین دیکھ رہے ہیں انہیں ڈرامے کی کہانی سے کوئی سروکار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈرامے میں عینی اور فاخر دونوں مظلوم ہیں، دونوں ہی کم عمر شادی کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں، اگر ڈرامے میں وہ دونوں ایک دوسرے کو سہارا دے رہے ہیں تو ہم کم عمر شادی کو glorify نہیں کررہے، میسم نقوی نے کہا کہ ڈرامے کو مکمل دیکھنے سے پہلے ہی فیصلہ نہ کریں۔ ڈرامے میں عینی اور فاخر کے رومانوی سین پر سوشل میڈیا صارفین کی تنقید پر ڈائریکٹر نے کہا کہ اس میں بچوں کا رومانس نہیں دکھایا جارہا، ڈراما کسی الگ دنیا کی کہانی نہیں ہے، یہ آپ کے معاشرے کی کہانی ہے، آپ کے معاشرے میں 12 سے 15 سال کی عمر کے بچے تعلقات (افیئر ) کررہے ہیں، اسے سدھارنے کے لیے جب تک ہاتھ میں ڈنڈا ہوگا یہ مسئلہ کبھی ٹھیک نہیں ہوگا، والدین کو اپنے بچوں سے بات چیت کے ذریعے تعلیم دینے کی ضرورت ہے اور ہم نے ڈرامے میں اسی بات کی نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے معاشرے کا اصل چہرہ عوام کے سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔