شہر میں ہزاروں ریڑھی بانوں کا آسان روزگار کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا
01-24-2022
(لاہور نیوز) شہر لاہور میں ہزاروں ریڑھی بانوں آسان روزگار کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ ریڑھی بانوں سے رجسٹریشن فارم فل کروا کر ریڑھی نمبر کا عمل سست روی کا شکار ہو گیا۔
ضلعی انتظامیہ لاہور ابتدائی طور پر 13 ماڈل ریڑھی بازار فعال نہ کر سکی۔ ابتدائی طور پر لال پل اور میاں پلازہ ریڑھی بازار فعال نہ کئے جا سکے۔ ضلعی انتظامیہ لاہور نے اخوت فاؤنڈیشن کے ساتھ ملکر مائیکرو فنانس فراہم کرنے کا دعوی کیا۔ ابتدائی طور پر فی بازار میں 20 ریڑھیوں کی رجسٹریشن کا عمل مکمل نہ ہو سکا۔ پہلے مرحلہ میں ترکی کی طرز پر ماڈل ریڑھی بازار لال پل اور میاں پلازہ کے مقام پر بازار نہ لگ سکا۔ دوسرے مرحلے میں شاہدرہ موڑ، دہلی گیٹ پر بازار لگانے کا عمل سست روی کا شکار ہے۔ ماڈل ریڑھی بازار گرین ٹاون مارکیٹ ڈی ٹو، نشتر کالونی، کنال روڈ لال پل پر نہ لگ سکا۔ ماڈل ریڑھی بازار شاد مان، بابا گراونڈ، شاد باغ گول باغ نہ لگ سکا۔ ریڑھی بازار میاں پلازہ، سبزار زار گراونڈ، مہران بلاک اقبال ٹاون اور بی ار بی نہر نہ لگ سکا۔ ماڈل ریڑھی بازاروں میں سینٹیشن، پیور ورک، ٹف ٹائلز، لائیٹس کا کام نہ ہو سکا۔ شکایت سیل ڈیسک بھی نہ لگ سکے۔ ڈپٹی کمشنر لاہور عمر شیر چٹھہ کا کہنا ہے کہ بازاروں کو مکمل فعال کرنے بارے افسران جلد رپورٹ جمع کروائیں۔