لاہور ہائیکورٹ کا نجی میڈیکل کالجز کو اضافی فیس طلبہ کو واپس کرنے کا حکم

11-07-2026

(محمد اشفاق) نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کی جانب سے من مانے فیسوں کی وصولی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ نے بڑا فیصلہ سنا دیا.

عدالت نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو نجی میڈیکل کالجز کی ٹیوشن فیس کا تعین، منظوری، ترمیم اور زیادہ سے زیادہ حد مقرر کرنے کا مکمل قانونی اختیار قرار دیتے ہوئے اضافی وصول شدہ فیس طلبہ کو واپس کرنے یا ایڈجسٹ کرنے کا حکم دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد اسحاق  نے دی یونیورسٹی آف فیصل آباد اور دیگر اداروں کی جانب سے دائر آئینی درخواستوں پر 28 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، عدالت نے پی ایم ڈی سی کے 28 اپریل 2025، 6 اکتوبر 2025 اور 11 مارچ 2026 کے نوٹیفکیشنز کو چیلنج کرنے والی نجی میڈیکل کالجز کی تینوں درخواستیں مسترد کر دیں، جبکہ طلبہ کی جانب سے دائر 12 آئینی درخواستیں منظور کر لیں۔ تحریری فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ایکٹ 2022 کی دفعہ 20 کے تحت پی ایم ڈی سی کو نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کی فیسوں کا جائزہ لینے، ان کی منظوری دینے، ترمیم کرنے اور مناسب حد مقرر کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے۔ عدالت کے مطابق قانون کی دفعہ 20 کی ذیلی دفعات 7 اور 8 کو الگ الگ نہیں بلکہ باہم مربوط انداز میں پڑھنا ضروری ہے،  تعلیمی اداروں کو فیس کا تعین اور اعلان کرنے کے ساتھ مجوزہ فیس سٹرکچر، مالی گوشوارے اور فیس میں اضافے کا جواز بھی پی ایم ڈی سی کو فراہم کرنا لازم ہے، تاکہ کونسل غیرمنصفانہ فیسوں کی روک تھام کر سکے۔ جسٹس خالد اسحاق  نے فیصلے میں قرار دیا کہ پی ایم ڈی سی کی جانب سے فیسوں کی عمومی زیادہ سے زیادہ حد مقرر کرنا اس کے قانونی اختیارات میں شامل ہے، تاہم فیس مقرر کرتے وقت تعلیمی اداروں کے حقیقی مالی اخراجات، تعلیمی معیار اور انفرادی مالی حالات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 18 کے تحت کاروبار اور معاشی سرگرمیوں کی آزادی غیرمشروط نہیں، ریاست عوامی مفاد، طلبہ کے تحفظ اور تعلیمی معیار برقرار رکھنے کیلئے مناسب پابندیاں عائد کر سکتی ہے، نجی میڈیکل کالجز آئینی آزادی کی بنیاد پر طلبہ سے غیرمنصفانہ فیسیں وصول نہیں کر سکتے۔ تحریری فیصلے میں مختلف تعلیمی اداروں کے مالی گوشواروں کا بھی حوالہ دیا گیا، یونیورسٹی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج فیصل آباد کے مالی ریکارڈ کے مطابق 2025 میں ادارے کا منافع 37 کروڑ 86 لاکھ 59 ہزار 794 روپے رہا، جبکہ فی طالب علم 8 لاکھ 41 ہزار 317 روپے اضافی وصول شدہ رقم کی واپسی کی سفارش بھی ریکارڈ کا حصہ تھی۔ اسی طرح ایف ایم ایچ کالج آف میڈیسن اینڈ ڈینٹسٹری لاہور کے مالی گوشواروں میں 2025 کا منافع 11 کروڑ 19 لاکھ 41 ہزار 648 روپے ظاہر کیا گیا، جبکہ فی طالب علم 7 لاکھ 41 ہزار 802 روپے اضافی وصولی کی واپسی کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ عدالت نے پی ایم ڈی سی اور متعلقہ تعلیمی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ طلبہ کی درخواستوں کی حد تک متعلقہ نوٹیفکیشنز پر ان کی شرائط کے مطابق عمل درآمد کیا جائے، اضافی وصول شدہ فیس کی واپسی یا ایڈجسٹمنٹ سے متعلق طلبہ کے جائز دعوے 30 اکتوبر 2026 سے 30 ورکنگ دنوں کے اندر نمٹانے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ اپنے قانونی حقوق کیلئے آواز اٹھانے والے طلبہ کے خلاف نجی میڈیکل کالجز کسی قسم کی انتقامی یا امتیازی کارروائی نہیں کر سکتے، کسی طالب علم کے ساتھ غیرقانونی یا توہین آمیز سلوک کی صورت میں توہین عدالت آرڈیننس 2003 اور آئین کے آرٹیکل 204 کے تحت عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں نجی میڈیکل کالجز کی جانب سے دائر درخواستیں مسترد اور طلبہ کی درخواستیں منظور ہونے کے بعد پی ایم ڈی سی کے فیسوں کی حد مقرر کرنے سے متعلق نوٹیفکیشنز برقرار رہیں گے۔