لاہور ہائیکورٹ: محض سکیورٹی چیک دکھانے سے رقم کی وصولی ممکن نہیں
11-07-2026
(محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے سکیورٹی چیک سے متعلق اہم قانونی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محض چیک پیش کر دینے سے اس کی رقم وصول کرنے کا حق پیدا نہیں ہو جاتا، بلکہ چیک کیش کرانے کیلئے پہلے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ چیک کے عوض رقم واقعی واجب الادا تھی۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگر چیک سکیورٹی کے طور پر جاری کیا گیا ہو تو اس کی ادائیگی کا انحصار متعلقہ مالی ذمہ داری ثابت ہونے پر ہو گا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عاصم حفیظ نے محمد احتشام کی درخواست پر چھ صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے نظامی فیڈز کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا اور چیک کی رقم کی وصولی کا دعویٰ خارج کر دیا، عدالتی فیصلے کے مطابق چیک کی پشت پر واضح طور پر ’’سکیورٹی چیک‘‘ تحریر تھا، جبکہ بینک افسر نے بھی عدالت میں تسلیم کیا کہ مذکورہ چیک بطور سکیورٹی جاری کیا گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اس صورت میں چیک کو غیر مشروط ادائیگی کا آلہ تصور نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کی ادائیگی متعلقہ شرائط اور واجب الادا رقم کے ثبوت سے مشروط ہو گی۔ درخواست گزار کی جانب سے 39 لاکھ 50 ہزار روپے کی رقم کا دعویٰ کیا گیا، تاہم عدالت کو اس دعوے کے حق میں پیش کیے گئے شواہد ناکافی اور غیر معتبر معلوم ہوئے، فیصلے کے مطابق فریق کی جانب سے حساب کتاب کے کھاتوں کی صرف نقول پیش کی گئیں، اصل کھاتے عدالت میں پیش نہیں کیے گئے اور نہ ہی نقول پیش کرنے کیلئے عدالت سے باقاعدہ اجازت حاصل کی گئی تھی، عدالت نے مزید نشاندہی کی کہ پیش کردہ حساب کا کھاتہ ’’ایم اے فارم‘‘ کے نام سے تھا، جبکہ چیک مدعا علیہ کے ذاتی بینک اکاؤنٹ سے متعلق تھا۔ اس کے علاوہ مال کی خریداری اور آرڈرز سے متعلق ضروری دستاویزات بھی پیش نہیں کی گئیں، جس کے باعث عدالت نے حساب کتاب کے کھاتے کو قابلِ اعتماد ثبوت تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ فیصلے میں قرار دیا گیا کہ جب چیک سکیورٹی کے طور پر جاری کیا گیا ہو تو محض اس کی موجودگی یا پیشی سے رقم کی ادائیگی کا حق ثابت نہیں ہوتا، بلکہ دعویدار کو یہ بھی ثابت کرنا ہو گا کہ متعلقہ لین دین کے نتیجے میں واقعی کوئی رقم واجب الادا تھی۔ عدالت نے چیک کی رقم کی وصولی کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا، دوسری جانب مخالف فریق کی جانب سے دائر ہرجانے کا دعویٰ بھی ثبوتوں کی عدم موجودگی کے باعث مسترد کر دیا گیا۔ جسٹس عاصم حفیظ نے تمام متعلقہ اپیلیں خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ مقدمے کے اخراجات کوئی بھی فریق دوسرے کو ادا کرنے کا پابند نہیں ہو گا۔ لاہور ہائیکورٹ کے اس فیصلے میں سکیورٹی چیک کی بنیاد پر رقم کی وصولی کے دعوے کیلئے واجب الادا رقم اور بنیادی لین دین کو قابلِ اعتماد شواہد سے ثابت کرنے کی اہمیت واضح کی گئی ہے۔