فواد چوہدری کا حکومت کو سیاسی کشیدگی کم کرنے، پی ٹی آئی قیادت سے مذاکرات کا مشورہ
11-06-2026
(لاہور نیوز) سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے حکومت کو سیاسی کشیدگی کم کرنے اور پی ٹی آئی قیادت سے مذاکرات کا مشورہ دے دیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان نے گزشتہ چند برسوں میں عالمی سطح پر ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے، دنیا بھر میں پاکستانی قیادت کو پذیرائی مل رہی ہے، چین، امریکہ، سعودی عرب اور ایران سمیت مختلف ممالک پاکستان کی بات کو اہمیت دیتے ہیں، اس سفارتی حیثیت کو برقرار رکھنے کیلئے ملک کے اندرونی حالات بہتر بنانا ہوں گے۔ فواد چوہدری نے کہا پاکستان کی موجودہ عالمی پوزیشن کو برقرار رکھنے کیلئے سیاسی ماحول میں بہتری اور قومی سطح پر مفاہمت ضروری ہے، گزشتہ چار برسوں کے دوران ملک میں سیاسی تلخی میں بہت اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات ملکی حالات پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول کی قیمت 400 روپے تک پہنچنے اور مہنگائی میں اضافے سے عوام کی مشکلات بڑھ گئی ہیں، اگر حالات اسی طرح برقرار رہے تو حکمران طبقے کو حاصل سہولیات بھی برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا، پاکستان اب تک ایک مخصوص طبقے کی ضروریات پوری کرتا رہا ہے، لیکن موجودہ حالات میں اس نظام پر بھی نظرثانی کرنا ہو گی۔ فواد چوہدری نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ تحریک انصاف، تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت اور سلمان اکرم راجہ سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا، حکومت کو چاہئے کہ کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی قیادت سے براہ راست بات کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد اور دیگر زیرحراست رہنماؤں کو مذاکراتی عمل میں شامل کیا جائے، جبکہ حماد اظہر سمیت دیگر رہنماؤں کے ساتھ بھی نرمی کا رویہ اختیار کیا جائے، زیرحراست پی ٹی آئی قیادت کو ریلیف دیا جائے تو مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ وہ صرف سیاسی رہنما نہیں بلکہ مذہبی رہنما بھی ہیں، حکومت کو ان کے بارے میں اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے، مولانا فضل الرحمان کو بھی اپنے تلخ بیانات واپس لینے چاہئیں جبکہ حکومت کو بھی مثبت سمت میں قدم بڑھانا چاہئے۔ نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر فواد چوہدری نے کہا کہ جب سے محسن نقوی نے نئے صوبوں کی بات کی ہے، مسلم لیگ (ن) نے ان کے خلاف مہم شروع کر دی ہے، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نئے صوبوں کے قیام کی مخالف ہیں، جبکہ تحریک انصاف نئے صوبوں کی حامی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر تحریک انصاف سے بات چیت کی جائے تاکہ اس اہم قومی معاملے پر سیاسی اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔