پنجاب بھرمیں سموگ کیخلاف فیلڈ آپریشن ، 11 صنعتی یونٹس سیل، اینٹوں کے 4بھٹے مسمار
11-06-2026
(لاہور نیوز) شہر میں ہوا کی رفتار صرف 4 کلومیٹر فی گھنٹہ رہنے اور درجہ حرارت میں کمی کے باعث فضائی آلودگی کے پھیلاؤ میں کمی جبکہ ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) میں وقتی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق صبح 11 بجے کے بعد ہوا کی رفتار اور درجہ حرارت بڑھنے سے اے کیو آئی میں بھی بہتری آنا شروع ہو جائے گی۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر لاہور کے زیادہ آلودگی والے علاقوں میں سموگ گنز کے ذریعے آپریشن، پانی کا چھڑکاؤ اور ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب بھر میں فضائی آلودگی کے خلاف گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھرپور فیلڈ آپریشن کیا گیا۔ کمزور ہواؤں کے باوجود آلودگی کے مقامی ذرائع کے خلاف حکومتی کارروائیوں میں کوئی نرمی نہیں کی گئی اور مسلسل مانیٹرنگ، مؤثر روک تھام اور بلاامتیاز انفورسمنٹ جاری ہے۔ مریم اورنگزیب کے مطابق صوبے بھر میں 328 صنعتی یونٹس اور 543 اینٹوں کے بھٹوں کا معائنہ کیا گیا، خلاف ورزیوں پر 11 صنعتی یونٹس سیل اور 4 بھٹے مسمار کیے گئے، جبکہ خلاف ورزی کرنے والے بھٹوں اور صنعتی یونٹس سمیت مجموعی طور پر 11 مقامات کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر صنعتی یونٹس کو 10 لاکھ روپے اور اینٹوں کے بھٹوں کو 20 لاکھ 50 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ غیر معیاری پلاسٹک کے خلاف کارروائیوں کے دوران پنجاب بھر میں 201 مقامات کا معائنہ کیا گیا، 726 کلوگرام پلاسٹک ضبط، 4 مقامات سیل اور 65 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ اسی طرح دھواں چھوڑنے والے کمرشل کچنز اور باربی کیو پوائنٹس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 117 مقامات کی چیکنگ کی گئی، 68 مقامات پر سکشن ہڈز نصب کرائے گئے، 9 مقامات سیل اور 95 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ سینئر صوبائی وزیر نے بتایا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ڈرون اسکواڈ، نائٹ اسکواڈ اور ہاک آئی فیلڈ اسکواڈ بھی متحرک ہیں، جو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے آلودگی کے ذرائع کی نگرانی اور خلاف ورزیوں پر فوری کارروائی یقینی بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں دھان کی فصل کی برداشت 78 فیصد مکمل ہو چکی ہے۔ صوبے میں 63 لاکھ 32 ہزار ایکڑ زیرِ کاشت رقبے میں سے 49 لاکھ 42 ہزار ایکڑ پر فصل کی کٹائی مکمل کر لی گئی ہے، جبکہ کسانوں کو 10 ہزار 45 سپر سیڈرز فراہم کیے گئے ہیں۔ فصلوں کی باقیات جلانے کے بجائے جدید مشینری کے ذریعے انہیں قابلِ استعمال بنانے کی حکمت عملی پر عمل جاری ہے۔ سپر سیڈرز کے ذریعے 7 لاکھ 43 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر گندم کی کاشت کی گئی ہے۔ فصلوں کی باقیات جلانے کے 329 شواہد سامنے آنے پر 141 مقدمات اور استغاثے دائر کیے گئے، جبکہ 30 لاکھ 35 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ مریم اورنگزیب نے شہریوں اور کسانوں سے اپیل کی کہ فصلوں کی باقیات، کوڑا کرکٹ اور پلاسٹک کو آگ نہ لگائیں، گاڑیوں کی فٹنس سرٹیفکیشن یقینی بنائیں اور فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے حکومتی اقدامات میں تعاون کریں۔