پھلوں کی مہنگے داموں فروخت ،غریب، متوسط طبقے کی قوت خرید جواب دینے لگی

11-05-2026

(لاہور نیوز) سرکاری نرخ نامے میں کسی بھی پھل کی قیمت میں کمی نہ ہوسکی، جبکہ دوسری جانب تمام پھل سرکاری نرخوں کے برعکس مہنگے داموں فروخت کیے جا رہے ہیں۔

پوش علاقوں میں درجہ اول کے پھلوں کے منہ مانگے دام وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ پسماندہ علاقوں میں مکس درجوں کے پھل بھی عوام کی قوت خرید سے باہر ہوگئے ہیں۔ مہنگائی کے باعث پھل غریب عوام کے لیے خواب بنتے جا رہے ہیں۔ مارکیٹ میں پھلوں کی قیمتوں اور سرکاری نرخ نامے میں نمایاں فرق دیکھا جا رہا ہے۔ سرکاری نرخ نامے کے مطابق سیب کالا کلو 210 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم مارکیٹ میں درجہ اول کا سیب 350 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ کیلا درجہ اول کا سرکاری نرخ 160 روپے فی درجن مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مارکیٹ میں 180 روپے فی درجن تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ انگور سفید موٹا سرکاری نرخ نامے میں 310 روپے فی کلو مقرر ہے، لیکن پرچون بازاروں میں 700 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ انگور سندرخانی کا سرکاری نرخ 670 روپے فی کلو ہے، جبکہ مارکیٹ میں قیمت 1000 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ امرود کا سرکاری نرخ 235 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم پرچون بازاروں میں 300 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ انار قندھاری کا سرکاری نرخ 600 روپے فی کلو ہے، جبکہ مارکیٹ میں 1250 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح پپیتا 280 روپے کے سرکاری نرخ کے برعکس 380 روپے فی کلو، جاپانی پھل 250 روپے کے بجائے 360 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ مسمی کا سرکاری نرخ 165 روپے فی درجن مقرر ہے، جبکہ مارکیٹ میں 250 روپے فی درجن تک فروخت کی جا رہی ہے۔ میٹھا 185 روپے فی درجن کے سرکاری نرخ کے برعکس 300 روپے فی درجن تک فروخت ہو رہا ہے۔ ایرانی کھجور کا سرکاری نرخ 435 روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے، تاہم اوپن مارکیٹ میں 520 روپے فی کلو تک فروخت جاری ہے۔ سرکاری نرخ نامے اور مارکیٹ کی قیمتوں میں واضح فرق کے باوجود مہنگے داموں فروخت کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث عام شہریوں کے لیے روزمرہ استعمال کے پھل خریدنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔