پنجاب میں ترقیاتی بجٹ کے استعمال کی رفتار سست، متعدد محکمے اخراجات کی تفصیلات دینے میں ناکام

11-04-2026

(لاہور نیوز) پنجاب حکومت کے مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے ترقیاتی اخراجات کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

پنجاب اسمبلی میں پوسٹ بجٹ کے سلسلے میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق متعدد محکمے ترقیاتی فنڈز کے استعمال کی تفصیلات فراہم نہ کر سکے، جبکہ کئی محکموں میں فنڈز کے اجرا کے باوجود ترقیاتی اخراجات کی رفتار سست رہی۔ دستاویزات کے مطابق یوتھ افیئرز اینڈ اسپورٹس کو پہلی سہ ماہی میں 305 کروڑ روپے، محکمہ خزانہ کو 149 کروڑ روپے، لٹریسی اینڈ نان فارمل ایجوکیشن کو 76 کروڑ روپے اور گورنر سیکرٹریٹ کو ایک کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری کیے گئے، تاہم ان محکموں کے اخراجات کی تفصیلات رپورٹ میں درج نہیں ہو سکیں۔ رپورٹ کے مطابق محکمہ آئی ٹی اینڈ انوویشن کے لیے 83 کروڑ روپے مختص ہونے کے باوجود پہلی سہ ماہی میں کوئی ترقیاتی فنڈ جاری نہیں کیا گیا۔ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ انسانی حقوق و اقلیتی امور کو 33 کروڑ روپے جاری ہوئے، جن میں سے صرف ایک کروڑ 84 لاکھ روپے خرچ کیے جا سکے۔ محکمہ ویمن ڈویلپمنٹ نے 77 کروڑ روپے کے جاری فنڈز میں سے 4 کروڑ 94 لاکھ روپے، جبکہ اسپیشل ایجوکیشن نے 87 کروڑ روپے میں سے صرف 6 کروڑ 60 لاکھ روپے خرچ کیے۔ محکمہ ہائر ایجوکیشن کو ایک ارب 14 کروڑ روپے جاری کیے گئے، جن میں سے 88 کروڑ 2 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ اسی طرح محکمہ پبلک پراسیکیوشن نے 33 کروڑ روپے میں سے 4 کروڑ 64 لاکھ روپے خرچ کیے، جبکہ پنجاب اسمبلی کو جاری 99 کروڑ روپے میں سے 17 کروڑ 79 لاکھ روپے ترقیاتی منصوبوں پر استعمال ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کو 578 کروڑ روپے جاری کیے گئے، جن میں سے 114 کروڑ 13 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ محکمہ اوقاف و مذہبی امور نے 86 کروڑ روپے میں سے 18 کروڑ 83 لاکھ روپے، جبکہ لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ نے 59 کروڑ روپے میں سے 14 کروڑ 90 لاکھ روپے خرچ کیے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ کو 2 ارب 967 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے، جن میں سے 783 کروڑ 25 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔ محکمہ ہاؤسنگ، اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کو 4 ارب 634 کروڑ روپے جاری ہوئے، جن میں سے ایک ارب 413 کروڑ 8 لاکھ روپے استعمال کیے گئے۔ محکمہ کمیونیکیشنز اینڈ ورکس کو 6 ارب 798 کروڑ روپے جاری کیے گئے، جن میں سے 2 ارب 322 کروڑ 58 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ بورڈ آف ریونیو نے 2 ارب 914 کروڑ روپے میں سے 952 کروڑ 54 لاکھ روپے، جبکہ محکمہ ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نے 706 کروڑ روپے میں سے 227 کروڑ 10 لاکھ روپے خرچ کیے۔ محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کو 517 کروڑ روپے جاری ہوئے، جن میں سے 175 کروڑ 48 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔ انڈسٹریز، کامرس اینڈ انویسٹمنٹ کو 477 کروڑ روپے میں سے 150 کروڑ 36 لاکھ روپے، جبکہ محکمہ آبی زراعت و ماہی پروری نے 724 کروڑ روپے میں سے 265 کروڑ 64 لاکھ روپے خرچ کیے۔ دستاویزات کے مطابق محکمہ زراعت کو ایک ارب 715 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری کیے گئے، جن میں سے 798 کروڑ 81 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ محکمہ صحت و آبادی نے 2 ارب 579 کروڑ روپے میں سے ایک ارب 281 کروڑ 42 لاکھ روپے، جبکہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے 2 ارب 160 کروڑ روپے میں سے ایک ارب 122 کروڑ 60 لاکھ روپے خرچ کیے۔ محکمہ اسکول ایجوکیشن کو 3 ارب ایک کروڑ روپے جاری ہوئے، جن میں سے ایک ارب 577 کروڑ 80 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔ محکمہ آبپاشی نے 908 کروڑ روپے میں سے 450 کروڑ 17 لاکھ روپے، محکمہ پولیس نے 460 کروڑ روپے میں سے 199 کروڑ 52 لاکھ روپے، جبکہ محکمہ داخلہ نے 424 کروڑ روپے میں سے 197 کروڑ 96 لاکھ روپے خرچ کیے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ محکمہ لوکل گورنمنٹ کو 5 ارب 913 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری ہوئے، جن میں سے 3 ارب 559 کروڑ 9 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ نے 778 کروڑ روپے میں سے 613 کروڑ 32 لاکھ روپے، جبکہ اسکلز ڈویلپمنٹ اینڈ انٹرپرینیورشپ نے 602 کروڑ روپے میں سے 556 کروڑ 88 لاکھ روپے خرچ کیے۔ محکمہ لیبر اینڈ ہیومن ریسورس کو 511 کروڑ روپے جاری کیے گئے، جن میں سے 500 کروڑ 24 لاکھ روپے خرچ ہوئے، جبکہ سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال نے 189 کروڑ روپے میں سے 129 کروڑ 22 لاکھ روپے استعمال کیے۔ پنجاب ایمرجنسی سروس نے 69 کروڑ روپے میں سے 45 کروڑ 17 لاکھ روپے خرچ کیے۔ دستاویزات کے مطابق بعض محکموں نے جاری کردہ ترقیاتی فنڈز کا بڑا حصہ استعمال کیا، تاہم متعدد محکموں کی جانب سے اخراجات کی تفصیلات فراہم نہ ہونے اور کئی شعبوں میں فنڈز کے کم استعمال نے ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کی رفتار سے متعلق سوالات اٹھا دیے ہیں۔