مہنگے پھل سستے نہ ہوسکے، سرکاری نرخ نامہ بھی عوام کو ریلیف دینے میں ناکام
11-03-2026
(لاہور نیوز) شہر کے پرچون بازاروں میں مہنگے پھلوں کی قیمتیں کم نہ ہوسکیں، سرکاری نرخ نامہ بھی عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دینے لگا۔
سرکاری ریٹ لسٹ میں دو پھلوں کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا، جبکہ مارکیٹ میں بیشتر پھل مقررہ سرکاری نرخوں کے برعکس مہنگے داموں فروخت ہورہے ہیں۔ پوش علاقوں میں درجہ اول کے پھلوں کے منہ مانگے دام وصول کیے جارہے ہیں، جبکہ پسماندہ علاقوں میں مکس درجوں کے پھل بھی عوام کی قوت خرید سے باہر ہوگئے ہیں۔ مہنگائی کے باعث پھل غریب اور متوسط طبقے کے لیے خواب بنتے جارہے ہیں۔ سرکاری نرخ نامے کے مطابق کالا کولو سیب کی قیمت 210 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے، تاہم مارکیٹ میں درجہ اول کا سیب 350 روپے فی کلو تک فروخت ہورہا ہے۔ درجہ اول کیلے کی سرکاری قیمت 160 روپے فی درجن مقرر ہے، جبکہ مارکیٹ میں 180 روپے فی درجن تک فروخت کیے جارہے ہیں۔ انگور سفید موٹا کی قیمت میں 10 روپے اضافہ کرکے 310 روپے فی کلو مقرر کردی گئی، تاہم پرچون بازاروں میں یہ 700 روپے فی کلو تک فروخت ہورہے ہیں۔ انگور سندرخانی کی سرکاری قیمت 670 روپے فی کلو مقرر ہے، جبکہ مارکیٹ میں 1000 روپے فی کلو تک فروخت کیے جارہے ہیں۔ امرود کی سرکاری قیمت 235 روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود 300 روپے فی کلو تک فروخت ہورہا ہے۔ انار قندھاری کی قیمت میں بھی 10 روپے اضافہ کرکے 590 روپے فی کلو مقرر کردی گئی، تاہم مارکیٹ میں اس کی قیمت 1250 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح پپیتا 280 روپے کے سرکاری نرخ کے مقابلے میں 380 روپے فی کلو، جاپانی پھل 250 روپے کے بجائے 360 روپے فی کلو تک فروخت ہورہا ہے۔ مسمی کی سرکاری قیمت 165 روپے فی درجن مقرر ہے، جبکہ مارکیٹ میں 250 روپے فی درجن تک فروخت کی جارہی ہے۔ میٹھا 190 روپے فی درجن کے سرکاری نرخ کے برعکس 300 روپے فی درجن تک فروخت ہورہا ہے۔ ایرانی کھجور کی سرکاری قیمت 435 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے، تاہم اوپن مارکیٹ میں 520 روپے فی کلو تک فروخت کی جارہی ہے۔ سرکاری نرخوں اور مارکیٹ کی قیمتوں میں واضح فرق کے باعث شہریوں کو پھلوں کی خریداری میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ سرکاری نرخ نامے پر عمل درآمد نہ ہونے سے عوام کو ریلیف نہیں مل سکا۔