سرکاری نرخ نامے میں 5 سبزیاں مہنگی ہونے کے باوجود من مانی قیمت پر فروخت

11-03-2026

(لاہور نیوز) سرکاری نرخ نامے کے مطابق پانچ سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا، تاہم تمام سبزیاں سرکاری نرخ ناموں کے برعکس مہنگے داموں فروخت کی جارہی ہیں۔

سبز منڈیوں، پوش علاقوں اور گلی محلوں میں سبزیوں کے الگ الگ نرخ وصول کیے جارہے ہیں، جبکہ سرکاری قیمتوں اور پرچون مارکیٹ کے نرخوں میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ سرکاری نرخ نامے میں پیاز کی قیمت میں 5 روپے اضافہ کرکے 195 روپے فی کلو مقرر کردی گئی، تاہم درجہ اول خشک پیاز پرچون بازاروں میں 230 روپے فی کلو تک فروخت ہورہا ہے۔ ٹماٹر کی قیمت میں 20 روپے اضافہ کرکے سرکاری نرخ 175 روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے، جبکہ درجہ اول ٹماٹر مارکیٹ میں 220 روپے فی کلو تک فروخت کیا جارہا ہے۔ لہسن چائنہ کی قیمت میں 10 روپے اضافے کے بعد سرکاری نرخ 440 روپے فی کلو مقرر کیا گیا، تاہم پرچون مارکیٹ میں اس کی قیمت 460 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ ادرک تھائی لینڈ کا سرکاری نرخ 355 روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے، لیکن مارکیٹ میں 420 روپے فی کلو تک فروخت ہورہی ہے۔ لیموں سرکاری نرخ نامے میں 70 روپے فی کلو مقرر ہونے کے باوجود پرچون بازاروں میں 120 روپے، سبز مرچ 120 روپے کے سرکاری نرخ کے مقابلے میں 180 روپے اور دیسی ٹینڈے 170 روپے کے بجائے 220 روپے فی کلو تک فروخت کیے جارہے ہیں۔ اسی طرح آلو کا سرکاری نرخ 53 روپے فی کلو مقرر ہے، جبکہ درجہ اول آلو 70 روپے فی کلو تک فروخت ہورہا ہے۔ شملہ مرچ 200 روپے کے سرکاری نرخ کے مقابلے میں 280 روپے، کھیرا 70 روپے کے بجائے 100 روپے، بند گوبھی 130 روپے کے بجائے 180 روپے اور پھول گوبھی 90 روپے کے بجائے 140 روپے فی کلو تک فروخت کی جارہی ہے۔ موٹی پھلیاں 70 روپے کے سرکاری نرخ کے مقابلے میں 150 روپے، بینگن 90 روپے کے بجائے 140 روپے اور بھنڈی 140 روپے کے بجائے 200 روپے فی کلو تک فروخت ہورہی ہے۔ دیسی گاجر کا سرکاری نرخ 90 روپے مقرر ہے، تاہم پرچون بازاروں میں 120 روپے فی کلو تک فروخت کی جارہی ہے۔ گھیا کدو کی قیمت میں 10 روپے اضافے کے بعد سرکاری نرخ 140 روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے، لیکن مارکیٹ میں 220 روپے تک فروخت ہورہا ہے۔ گھیا توری 120 روپے کے سرکاری نرخ کے مقابلے میں 200 روپے، میتھی 100 روپے کے بجائے 150 روپے اور مٹر 330 روپے کے بجائے 420 روپے فی کلو تک فروخت کیے جارہے ہیں۔ سرکاری نرخ نامے اور مارکیٹ میں وصول کیے جانے والے نرخوں کے درمیان نمایاں فرق کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ سرکاری نرخوں پر سبزیوں کی دستیابی بھی سوالیہ نشان بن گئی ہے۔