افغان طالبان نے دہشتگردی کی حمایت بند نہ کی تو سنگین قیمت چکانا پڑے گی: ترجمان پاک فوج

11-01-2026

(لاہور نیوز) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے افغان طالبان نے پاکستان میں دہشت گردی کی حمایت بند نہ کی تو سنگین قیمت چکانا پڑے گی۔

عالمی خبر رساں ادارے ’رائٹر‘ کو 30 اکتوبر کو دے گئے انٹرویو میں  لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سپانسر ہے جبکہ افغان طالبان رجیم بھارت کی پراکسی کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) بھی پاکستان کے خلاف بھارتی پراکسی ہیں، افغان طالبان اپنے مذموم مقاصد کے لیے غیر ریاستی عناصر اور کرائے کے جنگجوؤں کو استعمال کر رہے ہیں۔ ترجمان پاک فوج کہنا تھا کہ افغانستان اب بھی غیر ریاستی عناصر کے زیر اثر ہے اور وہاں ایک رجیم قائم ہے، افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد متعدد انٹیلی جنس ایجنسیوں اور پراکسی گروپس نے اپنی جڑیں مضبوط کرلیں، جیش العدل، القاعدہ اور داعش خراسان (آئی ایس کے پی) جیسی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیمیں بھی افغانستان میں موجود ہیں، ان حقائق کی نشاندہی اقوام متحدہ، امریکا اور کئی دیگر ممالک بھی کرچکے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ پاکستان افغان طالبان سے صرف یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ پاکستان کے اندر دہشت گردوں کی حمایت بند کریں، افغان طالبان رجیم نے نور ولی محسود، بشیر زیب اور گل بہادر جیسے دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے، پاکستان میں دہشت گردی کے لیے دہشت گردوں کی تشکیلیں افغانستان سے آتی ہیں اور انہیں وہیں سے اسلحہ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے خبردار کیا کہ اگر افغان طالبان رجیم نے دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے تحفظات اور مطالبات تسلیم نہ کیے تو اسے سنگین قیمت چکانا پڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان رجیم کی عالمی سطح پر کوئی ساکھ نہیں، بین الاقوامی برادری کو اسے ایک معمول کی ریاست کی طرح رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرنا چاہیے۔   ترجمان پاک فوج نے عالمی برادری پر زور دیا کہ افغان طالبان کو منشیات کی کاشت اور پیداوار روکنے کے لیے بھی مجبور کیا جائے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے واضح کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج افغانستان کی جانب سے پیدا ہونے والے تمام خطرات، بشمول ڈرون حملوں، کا مؤثر مقابلہ کرنے اور ان کا سدباب کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔