لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں پرچی سسٹم ختم کرنے کا حکم
10-30-2026
(محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے تمام سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے لیے رائج روایتی پرچی سسٹم چار ہفتوں میں ختم کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ ایمرجنسی اور آؤٹ ڈور آنے والے مریضوں کو پرچی کے حصول اور رجسٹریشن کے لیے طویل قطاروں میں کھڑے ہونے پر مجبور نہ کیا جائے بلکہ انہیں فوری طبی معائنے اور علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک جاوید اقبال وینس نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی جانب سے دائر درخواست پر تحریری حکم جاری کیا۔ عدالت نے محکمہ صحت پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے انتظام کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی مؤثر نظام متعارف کرایا جائے تاکہ غیر ضروری تاخیر، رش اور رجسٹریشن کاؤنٹرز پر طویل قطاروں کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔ عدالتی حکم کے مطابق سرکاری ہسپتالوں میں بنیادی طبی سہولیات کی عدم دستیابی سے متعلق درخواست 2020 سے زیر سماعت ہے، متعدد عدالتی نوٹسز اور ہدایات کے باوجود کسی بھی فریق کی جانب سے تاحال عمل درآمد رپورٹ جمع نہیں کرائی گئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ عدالتی احکامات پر مسلسل عمل درآمد نہ کرنا متعلقہ سرکاری حکام کے غیر سنجیدہ اور لاپرواہ رویے کا عکاس ہے۔ سماعت کے دوران سپیشل سیکرٹری ہیلتھ نبیلہ عرفان نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں چار ہفتوں کے اندر روایتی پرچی سسٹم ختم کرکے جدید اور مؤثر مریض مینجمنٹ سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔ عدالت نے محکمہ صحت پنجاب کو سرکاری اسپتالوں میں دستیاب طبی سہولیات، ان کے معیار اور بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات سے متعلق جامع رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے تمام متعلقہ حکام کو آئندہ سماعت پر تفصیلی عملدرآمد رپورٹس جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عدالتی احکامات پر بلاجواز عمل درآمد نہ کرنے والے افسران کے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔