لاہور ہائیکورٹ کا رجسٹری محرر اور رجسٹرار کی عبوری ضمانتیں مسترد
10-27-2026
(محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے چھ جعلی رجسٹریوں کے مقدمے میں رجسٹری محرر تاج محمد اور رجسٹرار محبوب علی کی عبوری ضمانتوں کی درخواستیں مسترد کر دیں۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ میں 40 فیصد افسران کی ڈیپوٹیشن پر تعیناتی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ محکمے میں ڈیپوٹیشن کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، تب ہی محکمہ بہتر انداز میں کام کر سکے گا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیئے کہ ریکارڈ کا جائزہ لینے سے جعلسازی ظاہر ہوتی ہے اور یہ ملی بھگت سے کی گئی ہے، ایک غلط رجسٹری سے جائیداد کی مالیت کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہے، رجسٹریوں کے انبار لگے ہوئے ہیں، لوگ خوار ہو رہے ہیں، لیکن متعلقہ حکام کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ عدالتی حکم پر ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن سہیل ظفر چٹھہ عدالت میں پیش ہوئے، انہوں نے عدالت کو بتایا کہ نئے قواعد تیار کرکے چیف سیکرٹری پنجاب کو بھجوا دیئے گئے ہیں۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ اینٹی کرپشن میں سپیشل پراسیکیوٹرز کی تعیناتی کیلئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں، ڈی جی اینٹی کرپشن نے بتایا کہ مقدمات کی پیروی کیلئے فوجداری مقدمات کے وکلا کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کیس خراب کر دیتے ہیں، جبکہ پراسیکیوشن میں بھرتیوں کیلئے باقاعدہ اشتہار جاری کیا جانا چاہئے تاکہ اہل افراد کو میرٹ پر تعینات کیا جا سکے۔ عدالت نے ڈی جی اینٹی کرپشن کو نئے قواعد میں ترمیم سے متعلق تجاویز پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایت بھی کی۔ عدالت کی جانب سے ملزمان کی عبوری ضمانتیں مسترد ہونے کے بعد جعلی رجسٹریوں کے مقدمے میں قانونی کارروائی آگے بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ سماعت کے دوران اینٹی کرپشن کے نظام، افسران کی تعیناتی اور پراسیکیوشن کے طریقہ کار سے متعلق اہم سوالات بھی زیرِ بحث آئے۔