سرکاری نرخ نامہ نظرانداز،مہنگے پھل سستے نہ ہو سکے

10-27-2026

(لاہور نیوز) سرکاری نرخ نامے میں دو پھلوں کی قیمتوں میں اضافہ، تاہم بیشتر پھل سرکاری نرخوں کے برعکس مہنگے داموں فروخت ہونے لگے۔

پوش علاقوں میں درجہ اول کے پھلوں کے منہ مانگے دام وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ پسماندہ علاقوں میں مکس درجوں کے پھل بھی عوام کی قوت خرید سے باہر ہو گئے۔ مہنگے پھل غریب عوام کے لیے خواب بننے لگے۔ سرکاری نرخ نامے کے مطابق کالا کلو سیب کی قیمت 210 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم مارکیٹ میں درجہ اول کا سیب 350 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ درجہ اول کے کیلے کی سرکاری قیمت 160 روپے فی درجن مقرر ہے، جبکہ مارکیٹ میں 190 روپے فی درجن تک فروخت کیے جا رہے ہیں۔ سندرخانی انگور کی سرکاری قیمت میں دو روپے اضافہ کرکے 660 روپے فی کلو مقرر کی گئی، تاہم پرچون بازاروں میں یہ 1,000 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہے ہیں۔ امرود کی سرکاری قیمت 240 روپے فی کلو مقرر ہے، جبکہ مارکیٹ میں 300 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ قندھاری انار کی قیمت میں 10 روپے اضافہ کرکے سرکاری نرخ نامے میں 550 روپے فی کلو مقرر کی گئی، تاہم مارکیٹ میں انار 1,150 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہے ہیں۔ پپیتے کی سرکاری قیمت 280 روپے فی کلو مقرر ہے، لیکن پرچون بازاروں میں 380 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ جاپانی پھل کی سرکاری قیمت 250 روپے فی کلو کے مقابلے میں مارکیٹ میں 360 روپے فی کلو تک وصول کیے جا رہے ہیں۔ مسّمی کی سرکاری قیمت 165 روپے فی درجن مقرر ہے، جبکہ مارکیٹ میں 250 روپے فی درجن تک فروخت ہو رہی ہے۔ اسی طرح میٹھے کی سرکاری قیمت 200 روپے فی درجن ہونے کے باوجود مارکیٹ میں 300 روپے فی درجن تک فروخت کیے جا رہے ہیں۔ ایرانی کھجور کی سرکاری قیمت 435 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے، تاہم اوپن مارکیٹ میں یہ 520 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ سرکاری نرخ نامے اور بازاروں میں پھلوں کی قیمتوں کے نمایاں فرق کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ مہنگائی کے باعث کم آمدنی والے طبقے کے لیے پھل خریدنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔