چیک ڈس آنر کیس، ملزم کی عدم گرفتاری پر چیف جسٹس پولیس کارکردگی پر برہم

10-26-2026

(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے چیک ڈس آنر کے مقدمے میں پانچ سال گزرنے کے باوجود ملزم کی عدم گرفتاری پر پولیس کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

 سماعت کے دوران اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عمر وقاص اور ڈپٹی اٹارنی جنرل رفاقت ڈوگر عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیئے کہ پولیس چھ، چھ سال تک گواہ پیش نہیں کرتی اور پھر کہا جاتا ہے کہ عدلیہ خراب ہے، کیا کریں، عدلیہ خراب ہے جو بول نہیں سکتی؟ عدالتیں پولیس کو جرمانے کرتی ہیں، پولیس افسران کی تنخواہیں بھی بند کی جاتی ہیں، لیکن اس کے باوجود معاملات درست نہیں ہوتے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پولیس افسران کی تھوڑی سی تنخواہ بند ہونے سے انہیں کیا فرق پڑتا ہے؟ پولیس عدالتی احکامات پر عمل نہ کرے تو سینئر افسر کو بلانا پڑتا ہے، لیکن پھر بھی عدلیہ کو ہی خراب کہا جاتا ہے۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے خدشہ ظاہر کیا کہ پولیس اہلکار مدعی پر دباؤ ڈال کر اسے عدالت سے درخواست واپس لینے پر مجبور کر سکتے ہیں، انہوں نے ریمارکس دیئے کہ پولیس مدعی پر دباؤ ڈالتی ہے، عدالت سے نکلنے کے بعد اسے دوبارہ ہراساں کرنا شروع کر دیا جاتا ہے، جبکہ ایسے مقدمات جن میں مدعی درخواست واپس لے ، پولیس افسران کو پسند آتے ہیں۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ایف آئی آر کے اندراج کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے، انہوں نے ریمارکس دیئے کہ کمپیوٹر پر ایف آئی آر درج ہونے سے معاملات خراب ہو رہے ہیں اور پولیس اپنی مرضی کی چیزیں ایف آئی آر میں شامل کر دیتی ہے۔ مقدمے کی تفصیلات کے مطابق شہباز نور کے خلاف 20 لاکھ روپے مالیت کا چیک ڈس آنر ہونے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا، پولیس نے 2021 میں مقدمے کا چالان عدالت میں جمع کروایا، تاہم ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ عدالت نے پولیس کی کارکردگی اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے حوالے سے سخت ریمارکس دیتے ہوئے نظامِ تفتیش اور مقدمات میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا۔