دفعہ 144 کا نفاذ، متفرق درخواست پر وکیل کو دلائل دینے کی ہدایت

10-26-2026

(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ اور اس کے تحت عائد پابندیوں کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

جسٹس عبہر گل نے شیخ امتیاز محمود اور اعجاز شفیع کی درخواست پر سماعت کی، دورانِ سماعت ڈی جی رینجرز کو فریق بنانے کیلئے دائر متفرق درخواست کی عبارت پر عدالت نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ درخواست میں مناسب زبان استعمال نہیں کی گئی، عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ متفرق درخواست پر بحث کر لیں۔ سماعت کے دوران عدالت نے اظہر صدیق سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ میرے پاس آنے کے بجائے اس عدالت کے پاس جانا پسند کرتے ہیں جہاں آپ ریلیف چاہتے ہیں۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دفعہ 144 کا حالیہ نفاذ بظاہر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کے احتجاج اور دھرنے کو روکنے کیلئے کیا گیا، احتجاج سے چند روز قبل پورے پنجاب میں 13 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ کرنا غیر قانونی ہے۔ درخواست گزار کے مطابق دفعہ 144 کے تحت پنجاب بھر میں پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع، جلسے اور جلوس پر پابندی عائد کی گئی، تاہم نوٹیفکیشن میں کسی مخصوص ضلع، مقام، راستے یا خطرے کی نشاندہی نہیں کی گئی، کسی مخصوص خطرے یا مقام کے بجائے پورے صوبے میں اجتماعات پر پابندی عائد کرنا غیر قانونی ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ پُرامن اجتماعات اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق سے متصادم ہے اور دفعہ 144 کے نفاذ کے وقت، حالات اور سیاسی احتجاج کے تناظر میں آئین کے آرٹیکلز 10، 19 اور 25 کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کی دفعات 3 اور 16 کے تحت سیاسی کارکنوں کی نظر بندیوں کا معاملہ بھی عدالت میں زیرِ سماعت ہے، اس کے علاوہ پی این آئی ایل، پی سی ایل اور ای سی ایل میں نام شامل کرنے کی قانونی حیثیت، جبکہ موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کی ممکنہ معطلی کے احکامات کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ دفعہ 144 کے نفاذ اور اس کے تحت عائد پابندیوں کو بنیادی حقوق سے متصادم قرار دیا جائے، پُرامن اور غیر مسلح اجتماعات پر پابندی معطل کی جائے اور پُرامن سیاسی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتاریوں، نظر بندیوں یا مقدمات کے اندراج سے روکنے کا حکم دیا جائے۔ درخواست گزار نے عدالت سے رینجرز کی تعیناتی اور دیگر انتظامی اقدامات کا قانونی ریکارڈ طلب کرنے کی بھی استدعا کی ہے۔