لاہور ہائیکورٹ کا موٹروے اور ملتان میں شجرکاری منصوبوں پر عمل درآمد کا حکم
10-23-2026
(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے ماحولیاتی تحفظ اور شجرکاری کے فروغ سے متعلق درخواست پر ایم تھری موٹروے اور ملتان شہر کی اہم شاہراہوں پر شجرکاری کے منظور شدہ اور مجوزہ منصوبوں پر عمل درآمد جاری رکھنے اور زیر التوا منظوریوں و خریداری کے مراحل بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ شجرکاری کی کامیابی کا تعین صرف لگائے گئے پودوں کی تعداد سے نہیں بلکہ ان کی بقا، صحت مند نشوونما اور مناسب دیکھ بھال سے کیا جانا چاہیے۔ جسٹس جواد حسن نے محمد طاہر جمال کی جانب سے دائر درخواست اور اس سے منسلک درخواست کی سماعت کے دوران متعلقہ سرکاری اداروں کی عمل درآمد رپورٹس کا جائزہ لیا۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ایم تھری موٹروے اور ملتان شہر کی مختلف شاہراہوں پر شجرکاری کے اقدامات جاری ہیں جبکہ ماحولیاتی خطرات میں کمی اور سرسبز رقبے میں اضافے کے لیے مشاورتی کمیٹی کے اجلاس بھی منعقد کیے گئے ہیں۔ عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ اکتوبر 2026 کے دوران ایم تھری موٹروے کے سروس ایریاز اور ریسٹ ایریاز میں 5 ہزار 280 پودے لگائے گئے ہیں، موٹروے کے 36 کلومیٹر طویل حصے پر پھل دار درخت لگانے کے لیے خریداری کا عمل جاری ہے جبکہ دیگر حصوں میں نئے درخت لگانے اور پہلے سے موجود درختوں کی دیکھ بھال کے لیے تخمینوں کی منظوری کا معاملہ زیرِ عمل ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حکام کے مطابق مسافروں کی سہولت کے لیے سروس ایریاز کی نشاندہی کرنے والے اضافی سائن بورڈز بھی تقریباً ہر 10 کلومیٹر کے فاصلے پر نصب کیے گئے ہیں۔ سرکاری حکام نے بتایا کہ مالی سال 27-2026 کے دوران ضلع ملتان کی اہم شاہراہوں پر مجموعی طور پر 28 ہزار 215 پودے لگانے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ملتان وہاڑی روڈ پر 19 ہزار 140، خانیوال روڈ پر 4 ہزار 125 اور ہیڈ محمد والا روڈ پر 990 پودے لگائے جائیں گے، اسی طرح مظفرگڑھ روڈ پر شیر شاہ ٹول پلازہ کے مقام پر ایک ہزار 980 جبکہ شیر شاہ روڈ انٹرسیکشن پر بھی ایک ہزار 980 پودے لگانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، یہ شجرکاری مجموعی طور پر 85.5 کلومیٹر کے مختلف حصوں پر کی جائے گی۔ حکام کے مطابق ملتان وہاڑی روڈ کے شجرکاری منصوبے کی منظوری دی جا چکی ہے جبکہ دیگر تین منصوبے منظوری کے مراحل میں ہیں، منصوبوں پر عمل درآمد کے بعد پودوں کی چار سال تک دیکھ بھال اور نگہداشت کی جائے گی۔ محکمہ جنگلات نے شجرکاری کے مقامات کی جغرافیائی نشاندہی، تصاویر، پودوں کی اقسام اور ان کی بقا کی شرح کا ریکارڈ محفوظ رکھنے کا طریقہ کار بھی اختیار کیا ہے تاکہ منصوبوں کی پیش رفت اور نتائج کی نگرانی کی جاسکے۔ عدالت نے کمشنر ملتان ڈویژن، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، محکمہ جنگلات اور محکمہ ہائر ایجوکیشن سمیت متعلقہ اداروں کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔ جسٹس جواد حسن نے طلبہ میں ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے کے لیے ’’ایک طالب علم، ایک پودا‘‘ منصوبے کو بھی مثبت پیش رفت قرار دیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ شجرکاری کے منصوبوں کو محض سڑکوں اور عوامی مقامات کی خوبصورتی بڑھانے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان کی منصوبہ بندی میں مقامی آب و ہوا، زمین کی نوعیت، پانی کی دستیابی، حیاتیاتی تنوع اور شہد کی مکھیوں سمیت جنگلی پولینیٹرز کے تحفظ کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ عدالت نے مناسب مقامات پر دیرپا، گھنے اور سایہ فراہم کرنے والے درخت لگانے کی ہدایت کرتے ہوئے نیم، شیشم، پیپل اور مقامی ماحول سے مطابقت رکھنے والی کیکر کی اقسام پر غور کرنے کا کہا۔ جسٹس جواد حسن نے واضح کیا کہ درختوں کی اقسام کا حتمی انتخاب متعلقہ تکنیکی ماہرین مقامی حالات اور بنیادی ڈھانچے سے مطابقت کا جائزہ لینے کے بعد کریں۔ اس کے ساتھ پودوں کو پانی کی فراہمی، ان کی حفاظت، خشک یا خراب پودوں کی جگہ نئے پودے لگانے اور باقاعدہ نگرانی کے انتظامات بھی یقینی بنائے جائیں تاکہ شجرکاری کے منصوبوں سے دیرپا ماحولیاتی فوائد حاصل ہوسکیں۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منظور شدہ اور مجوزہ منصوبوں پر قانون کے مطابق عمل درآمد جاری رکھا جائے اور زیر التوا منظوریوں و خریداری کے مراحل بروقت مکمل کیے جائیں۔ عدالت نے اس امر پر زور دیا کہ شجرکاری کے منصوبوں کی افادیت کا اصل معیار پودوں کی بقا، مناسب نگہداشت اور ماحول پر ان کے دیرپا مثبت اثرات ہونا چاہیے۔