آن لائن فراڈ ہو رہے ہیں، شہری اپنی تصاویر کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں: محسن نقوی
10-23-2026
(لاہور نیوز) وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہریوں کو آن لائن فراڈ، سائبر کرائمز اور بلیک میلنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے اپنی تصاویر اور ویڈیوز غیر متعلقہ افراد کے ساتھ شیئر نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
صوبائی دارالحکومت میں سائبر کرائم کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ کہ آن لائن فراڈ کی متعدد صورتیں سامنے آ رہی ہیں، جن میں خواتین اور بچیوں کو مختلف بہانوں سے تصاویر اور ویڈیوز حاصل کرکے بلیک میل کیا جاتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ شہری بالخصوص خواتین اپنی تصاویر شیئر کرنے میں انتہائی احتیاط کریں، کیونکہ بعض عناصر تصاویر اور ویڈیوز کو بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں، انہوں نے ماؤں اور بہنوں سے خصوصی اپیل کی کہ وہ کسی بھی شخص کے ساتھ اپنی ذاتی تصاویر شیئر نہ کریں۔ وزیر داخلہ کا آن لائن مالی فراڈ سے بچاؤ کے حوالے سے کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص بیمار ہونے کا بہانہ کرکے بھی آن لائن پیسے مانگے تو تصدیق کے بغیر رقم نہ بھیجی جائے، شہریوں کو چاہیے کہ آن لائن پیسوں کا مطالبہ کرنے والے افراد کی شناخت کی تصدیق کریں اور جعلی اکاؤنٹس سے محتاط رہیں۔ محسن نقوی نے کہا کہ لوگوں نے جعلی آئی ڈیز بنا رکھی ہیں، جن کے ذریعے شہریوں کو دھوکا دیا جاتا ہے، سائبر کرائمز کی روک تھام کے لیے سائبر پولیس کو متحرک کیا جا رہا ہے، جبکہ شہریوں کو بروقت ریلیف فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ سائبر کرائمز سے متعلق عوامی آگاہی مہم چلائی جائے گی تاکہ شہریوں کو آن لائن فراڈ، جعلی شناخت اور بلیک میلنگ کے طریقوں سے آگاہ کیا جا سکے، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو مکمل سپورٹ فراہم کریں گے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ این سی سی آئی اے کے پاس بچیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق سب سے زیادہ کیسز آ رہے ہیں، وہ تین ایسی بچیوں سے ملے جنہوں نے خودکشی کی کوشش بھی کی تھی۔ محسن نقوی نے ان واقعات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے آن لائن ہراسانی اور بلیک میلنگ کی روک تھام، متاثرین کے تحفظ اور بروقت مدد کی اہمیت پر زور دیا۔ اُنہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے احتیاط برتیں، اپنی ذاتی معلومات اور تصاویر غیر ضروری طور پر شیئر نہ کریں اور کسی بھی مشکوک آن لائن سرگرمی کی صورت میں متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں۔