لاہور ہائیکورٹ: پیشگی منصوبہ بندی ثابت نہ ہونے پر ملزم کی عمر قید کی سزا ختم
10-23-2026
(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں پیشگی منصوبہ بندی ثابت نہ ہونے پر ملزم کی عمر قید کی سزا تبدیل کرتے ہوئے اسے پہلے سے کاٹی گئی قید کی مدت تک محدود کر دیا۔
جسٹس محمد امجد رفیق نے ملزم کی جیل اپیل جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے سزا تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 (ب) سے تبدیل کرکے دفعہ 302 (سی) کے تحت کر دی۔ ملزم اب تک 12 سال، 11 ماہ اور 2 دن قید کاٹ چکا ہے۔ عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ قتل کی باقاعدہ سازش یا پیشگی منصوبہ بندی کے ٹھوس شواہد موجود نہیں۔ لڑکوں کے دو گروپوں کے درمیان رقابت کی بنیاد پر ہونے والے قتل کو محض اس وجہ سے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت کیا گیا جرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ فیصلے کے مطابق ملزم نے اچانک تصادم کے دوران ہاکی کا ایک وار کیا، جو مقتول کے سر پر لگا اور جان لیوا ثابت ہوا۔ عدالت نے قرار دیا کہ چشم دید گواہوں کی شہادت طبی شواہد سے مطابقت رکھتی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب سینٹینسنگ ایکٹ 2019 کے اطلاق سے متعلق اہم قانونی نکتہ بھی اٹھایا اور قرار دیا کہ یہ قانون ایسے مقدمات پر لاگو نہیں ہوتا جن میں سزائے موت مقرر ہو۔ جسٹس محمد امجد رفیق نے حکومت پنجاب کو قتل کے مقدمات میں سزا کے تعین سے متعلق قانونی اصلاحات پر غور کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب سینٹینسنگ ایکٹ میں ترامیم کے ذریعے عدالتی صوابدید کی گنجائش پیدا کی جائے۔ عدالت نے سزا مقرر کرنے سے قبل ملزم کو الگ سماعت کا موقع دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ عدالت نے مقتول کے ورثا کو 5 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم برقرار رکھا۔ فیصلے کے مطابق معاوضہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ملزم کو مزید 6 ماہ قید کاٹنا ہوگی۔ لاہور ہائیکورٹ نے سزا میں ترمیم کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا ریکارڈ واپس بھجوانے کا حکم بھی دے دیا۔