پاکستان ریلوے میں ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کے 349 واقعات رپورٹ

10-22-2026

(لاہور نیوز) پاکستان ریلوے میں ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کے واقعات کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کردی گئیں، -2022 سے ستمبر 2026 تک پاکستان ریلوے میں ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کے 349 واقعات رپورٹ ہوئے۔

پاکستان ریلوے کی رپورٹ کے مطابق 2022 میں 42، 2023 میں 58، 2024 میں 95 اور 2025 میں 93 واقعات پیش آئے۔ستمبر 2026 تک ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کے 61 واقعات رپورٹ ہوئے۔ ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کی سب سے بڑی وجہ ریلوے ٹریک کی خرابی قرار، 120 واقعات ٹریک کے نقص یا خرابی کے باعث پیش آئے۔ریلوے عملے کی غلطی کے باعث 95 واقعات پیش آئے، رولنگ اسٹاک کی خرابی سے 64 حادثات رپورٹ ہوئے۔سگنل اور انٹرلاکنگ کے مسائل کے باعث 18 واقعات پیش آئے۔ دہشت گردی اور تخریب کاری سے 13 واقعات منسلک کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق 26 واقعات میں متعدد وجوہات، 10 قدرتی آفات، 2 برقی خرابی اور ایک واقعہ سڑک استعمال کرنے والوں کے باعث پیش آیا۔ پاکستان ریلوے میں ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کے 349 واقعات کی تحقیقات شروع کی گئیں، جن میں سے 331 مکمل ہو چکی ہیں۔سال 2022 کے تمام 42 واقعات، 2023 کے 58 میں سے 56، 2024 کے تمام 95 اور 2025 کے 93 میں سے 89 واقعات کی تحقیقات مکمل ہوئیں۔ ستمبر 2026 تک پیش آنے والے 61 واقعات میں سے 49 کی تحقیقات مکمل، 12 کی تحقیقات زیر التوا ہیں۔پاکستان ریلوے کے مطابق 349 واقعات سے متعلق 229 مقدمات مکمل جبکہ 120 مقدمات زیر التوا ہیں۔ 2026 میں ستمبر تک رپورٹ ہونے والے 61 واقعات سے متعلق 51 مقدمات زیر التوا ہیں۔ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کے واقعات کی روک تھام کے لیے سیفٹی ڈائریکٹوریٹ قائم، ریلوے اسٹیشنوں اور حفاظتی نظام کو بہتر بنانے کے اقدامات جاری ہیں۔ ریلوے کراسنگ کے خطرات سے آگاہی کے لیے عوامی مہم، حفاظتی بورڈز کی تنصیب اور عملے کی تربیت کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔غیر محفوظ ریلوے کراسنگز کو محفوظ بنانے، معائنے اور غفلت کے مرتکب افسران و اہلکاروں کے خلاف انضباطی کارروائی بھی جاری ہے۔