ٹائپ 3 ذیابیطس کیا ہے؟ الزائمر سے ممکنہ تعلق سامنے آ گیا
10-21-2026
(ویب ڈیسک) ذیابیطس تاحیات ساتھ رہنے والے ایسی طبی حالت ہے جو ہر سال لاکھوں افراد کو ہلاک کرتی ہے اور یہ کسی کو بھی لاحق ہو سکتی ہے۔
یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم اپنے اندر موجود شکر (گلوکوز) کو حل کر کے خون میں شامل نہیں کر پاتا اس کی پیچیدگی کی وجہ سے دل کے دورے، فالج، نابینا پن، گردے ناکارہ ہونے اور پاؤں اور ٹانگیں کٹنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 ذیابیطس پر طبی ماہرین طویل عرصے سے تحقیق کر رہے ہیں اور انہیں ذیابیطس کی سب سے عام اقسام کے طور پر جانا جاتا ہے، لیکن تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ذیابیطس کی ایک تیسری قسم بھی ہو سکتی ہے، جو خاص طور پر بعض گروہوں کو متاثر کر رہی ہے۔ عام طور پر ذیابیطس اس وقت ہوتی ہے جب جسم میں انسولین کی مناسب مقدار پیدا نہیں ہوتی یا جسم کے خلیے انسولین کیلئے درست ردِعمل ظاہر نہیں کرتے، جس کے نتیجے میں خون میں شوگر کی سطح بڑھ جاتی ہے، ماہرین کے مطابق الزائمر کے مرض میں مبتلا افراد بھی درحقیقت اسی طرح کی کیفیت کا سامنا کر رہے ہو سکتے ہیں، بعض طبی ماہرین اس کیفیت کو ٹائپ 3 ذیابیطس کا نام دیتے ہیں۔