لاہور ہائیکورٹ نے کمرشلائزیشن فیس پر میونسپل کارپوریشن ملتان کا حکم کالعدم قرار دیدیا

10-20-2026

(محمد اشفاق) لاہور ہائیکورٹ نے کمرشلائزیشن فیس کے تنازع میں میونسپل کارپوریشن ملتان کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مالی معاملات میں فریقین کے حقوق کا تعین تنازع پیدا ہونے کے وقت نافذ قانون اور مقررہ نرخوں کے مطابق کیا جائے گا۔ بعد میں نافذ ہونے والی پالیسی کا ماضی سے اطلاق کرکے اضافی مالی بوجھ ڈالنا قانونی تقاضے پورے کیے بغیر جائز نہیں۔

  جسٹس جواد حسن نے میاں عباس احمد کی آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن ملتان کا 11 مئی 2026 کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق درخواست گزار نے 8 دسمبر 2005 کو تقریباً چھ مرلے کی جائیداد کا کمرشل سائٹ پلان منظور کرانے کے لیے درخواست دی تھی۔ متعلقہ حکام نے عمارت کی فیس کی مد میں 42 ہزار 470 روپے اور پراسیسنگ فیس کی مد میں 12 ہزار روپے جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔ درخواست گزار کے وکیل کے مطابق متعلقہ میونسپل حکام نے مقررہ مدت میں سائٹ پلان کی منظوری سے متعلق فیصلہ نہیں کیا اور معاملہ کمرشلائزیشن کمیٹی کے پاس زیر التوا رہا۔ بعد ازاں درخواست گزار نے عمارت تعمیر کرلی، تاہم کمرشلائزیشن کا تنازع برقرار رہا۔ سال 2022 میں دوسری منزل کی تعمیر کے لیے درخواست دینے کے بعد بھی معاملہ مختلف فورمز پر زیر سماعت رہا۔ فیصلے کے مطابق چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن ملتان نے 11 مئی 2026 کو درخواست مسترد کرتے ہوئے جائیداد پر مالی سال 2025-26 کے قواعد کے تحت کمرشلائزیشن فیس وصول کرنے کی ہدایت کی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ متعلقہ افسر نے درخواست مسترد کرتے وقت نہ تو ٹھوس وجوہات بیان کیں اور نہ ہی متعلقہ قانونی دفعات اور قواعد کی وضاحت کی۔ وجوہات کے بغیر جاری کیا گیا حکم قانونی طور پر برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ جسٹس جواد حسن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سرکاری حکام اور عوامی عہدے داروں پر لازم ہے کہ وہ قانون کے مطابق فیصلے کریں اور اپنے احکامات میں واضح وجوہات بیان کریں۔ انتظامی اور عدالتی احکامات میں متعلقہ حقائق، قابل اطلاق قانون اور عدالتی نظائر کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ مالی معاملات میں فریقین کے حقوق کا تعین اس وقت نافذ قانون کے مطابق ہونا چاہیے جب متعلقہ قانونی حق یا تنازع پیدا ہوا۔ سابقہ معاملات پر بعد میں نافذ ہونے والی پالیسی لاگو کرکے اضافی مالی بوجھ ڈالنا جائز نہیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے میاں عباس احمد کی آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن ملتان کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔