عظمیٰ بخاری نے معین قریشی کے خلاف ہتک عزت کا کیس جیت لیا

10-20-2026

(لاہور نیوز) پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ جیت لیا۔

عظمیٰ بخاری نے معین قریشی کے خلاف ڈیفیمیشن ایکٹ کے تحت لاہور کے ڈیفیمیشن ٹربیونل میں ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا، یہ دعویٰ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں معین قریشی کی جانب سے دیے گئے بیان کی بنیاد پر دائر کیا گیا تھا۔ ٹربیونل کے مطابق معین ریاض قریشی نے خود اعتراف کیا کہ انہوں  نے ٹی وی پروگرام میں مذکورہ باتیں کی تھیں، ٹربیونل کے ریمارکس کے مطابق معین قریشی کی جانب سے ایسے شواہد پیش نہیں کیے گئے جن سے ان کے الزامات درست ثابت ہو سکتے، جبکہ ان کے وکلا بھی عظمیٰ بخاری کے دعوے کو غلط ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ ہتک عزت کیس میں عظمیٰ بخاری کی جانب سے ان کے وکیل علی بخاری نے دلائل دیے۔ معین قریشی  نے الزام عائد کیا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے پنجاب اسمبلی کے دورے کے موقع پر عظمیٰ بخاری نے 150 سے 200 معاوضہ لینے والے افراد کو اسمبلی کے اندر داخل کروایا، انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے سوالات کرنے والے صحافی بھی عظمیٰ بخاری کے تنخواہ دار ملازم تھے۔ عظمیٰ بخاری نے ان الزامات کو سراسر جھوٹا، من گھڑت اور اپنی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی بدنیتی پر مبنی کوشش قرار دیا تھا۔ لاہور کے ڈیفیمیشن ٹربیونل نے مقدمے کا مختصر فیصلہ جاری کر دیا ہے، جبکہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔