لاہور ہائیکورٹ کا بچوں کی حوالگی سے متعلق اہم فیصلہ، والد کی درخواست مسترد
10-20-2026
(لاہور نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے بچوں کی حوالگی سے متعلق والد کی آئینی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بچوں کی فلاح و بہبود والدین کے ترجیحی حق سے زیادہ اہم ہے۔
جسٹس شیریں عمران نے 9 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا، جس میں والد کو فی بچہ 35 ہزار روپے ماہانہ خرچہ ادا کرنے اور بچوں کے ماہانہ اخراجات میں سالانہ 10 فیصد اضافے کا حکم برقرار رکھا گیا ہے۔ تحریری فیصلے کے مطابق والد مالی مشکلات یا بے روزگاری کا عذر پیش کرکے بچوں کے اخراجات کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتا۔ بچوں کی حوالگی کا فیصلہ کرتے وقت ان کی تعلیم، نگہداشت، عمر اور خواہش کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ بچوں کی فلاح و بہبود میں مالی ضروریات کے ساتھ جذباتی، نفسیاتی اور تعلیمی ضروریات بھی شامل ہیں۔ گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ کی دفعہ 17 کے تحت بچوں کی فلاح و بہبود کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور حوالگی کے معاملے میں والدین میں سے کسی کا ترجیحی حق بچوں کی بہتری پر فوقیت نہیں رکھتا۔ فیصلے کے مطابق دونوں بچے اپنی والدہ کے ساتھ رہ رہے ہیں اور والد بچوں کو والدہ سے منتقل کرنے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرسکا۔ دونوں بچے نجی اسکول میں زیر تعلیم ہیں اور انہوں نے عدالت میں بھی والدہ کے ساتھ رہنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ جسٹس شیریں عمران نے قرار دیا کہ بچوں کی رائے کو اہمیت دی جانی چاہیے، تاہم اسے حتمی فیصلہ بنانے کے بجائے مجموعی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے۔ عدالت کے مطابق ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں کوئی قانونی خامی یا شواہد کی غلط تشریح ثابت نہیں ہوئی، لہٰذا والد کی بچوں کی حوالگی سے متعلق درخواست مسترد کردی گئی، جبکہ بچوں سے ملاقات کا پہلے سے طے شدہ شیڈول برقرار رکھا گیا ہے۔