پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہڈیوں کے امراض کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہے
10-20-2026
(لاہور نیوز) پاکستان سمیت دنیا بھر میں بھی آج ورلڈ آسٹیوپوروسس ڈے منایا جا رہا ہے، ورلڈ آسٹیوپوروسس ڈے منانے کا مقصد ہڈیوں کی کمزوری کی اس خاموش بیماری کے بارے میں آگاہی دینا ہے۔
آسٹیوپوروسس کو خاموش بیماری اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ بغیر کسی علامت کے ہڈیوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے اور معمولی چوٹ پر بھی فریکچر کا باعث بنتی ہے۔ ہڈیوں کو خاموشی سے کھوکھلا کرنے والی بیماری آسٹیوپوروسس کا عالمی دن انٹرنیشنل آسٹیوپوروسس فاؤنڈیشن اور مقامی تحقیق کے مطابق پاکستان میں اس وقت لاکھوں افراد آسٹیوپوروسس کا شکار ہیں، جن میں 72 لاکھ خواتین شامل ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ 2050ء تک یہ تعداد بڑھ کر ایک کروڑ 29 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ ماہرین کے مطابق آبادی کے تناسب سے پنجاب میں 50 لاکھ سے زائد افراد اس بیماری میں مبتلا ہیں۔ خواتین میں اس بیماری کا رجحان مردوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 50 سال سے زائد عمر کی ہر تیسری خاتون اور ہر پانچواں مرد آسٹیوپوروسس کی وجہ سے فریکچر کا شکار ہوتا ہے۔ پاکستان میں 50 سال سے زائد عمر کی 30 فیصد خواتین آسٹیوپوروسس کا شکار ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجوہات کم عمری میں شادی، بار بار حمل دودھ پلانے کے دوران کیلشیم کی کمی کو پورا نہ کرنا وٹامن ڈی کی شدید کمی اور بیٹھے رہنے والا طرز زندگی ہے۔ پاکستان میں 70 فیصد حاملہ خواتین اور 40 فیصد بچوں میں وٹامن ڈی کی کمی پائی جاتی ہے۔ آرتھوپیڈک سرجن پروفیسر سجاد احمد گورایہ کہتے ہیں لاہور میں 36 فیصد افراد آسٹیوپروسس کا شکار ہیں، بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے آسٹیوپوروسس سے بچاؤ ممکن ہے۔ ورلڈ آسٹیوپوروسس ڈے ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہڈیوں کی مضبوطی ہی صحت مند زندگی کی ضمانت ہے، بروقت تشخیص، متوازن غذا اور ورزش سے اس خاموش بیماری کو شکست دی جا سکتی ہے۔